لاہور رجسٹری میں سپریم کورٹ نے قصور قتل کیس میں سزائے موت کے ملزم کی اپیل کی سماعت کی، جس دوران عدالت میں کئی دلچسپ اور غیر معمولی مناظر دیکھنے میں آئے۔

سماعت کے دوران مقتول کے والد نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موجود اپنی سابقہ اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کیا۔

جس پر عدالت نے وضاحت طلب کی۔ وکیل مدعی نے بتایا کہ سامنے کھڑی خاتون مقتول کی سابقہ بیوی ہیں اور مقتول شخص ان دونوں کا بیٹا تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی جانب سے استفسار پر مقتول کے والد نے جواب دیا کہ ان کی 4 شادیاں ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اپنی شکل دیکھی ہے، تم کیا شاہ رخ خان ہو، 4 شادیاں کیسے کر لیں۔

وکیل کا مؤقف تھا کہ یہ پہلے کہہ رہا تھا کہ اس کی 2 بیویاں ہیں اب کہہ رہا ہے 4 بیویاں ہیں یہ سچ نہیں بتا رہا۔

بعد ازاں جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقتول کی والدہ سے سوال کیا کہ وہ اس شخص کو کس چیز پر فدا ہوئیں، انہوں نے خاتون نے دریافت کیا کہ وہ کیوں معاف کرنا چاہتی ہیں۔

جس پر والدہ مقتول نے جواب دیا کہ وہ ملزم کو اللہ واسطے معاف کرنا چاہتی ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ پر اس سلسلے میں کسی طرح کا دباؤ ڈالا گیا، جس پر والدہ نے کہا کہ نہیں، وہ خود سے معاف کرنا چاہتی ہیں۔

ملزم کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ راضی نامہ دکھا دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی بادشاہت کا دور تھوڑی ہے کہ راضی نامے ہوں۔

عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ سزائے موت عمر قید قصور قتل کیس لاہور رجسٹری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ سزائے موت قصور قتل کیس لاہور رجسٹری جسٹس ہاشم کاکڑ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا