پاکستان غزہ میں امن کےلئے کردار ادا کریگا، حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہونگے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستان غزہ میں امن کےلئے کردار ادا کریگا، حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہونگے، دفتر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن کے لیے کردار ادا کرے گا، تاہم ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیویارک میں موجود ہیں، جو صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے دورے پر ہیں۔ آج وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں۔ نائب وزیراعظم نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیر اعظم کے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ویانا، آسٹریا کا دورہ بھی کیا جو آسٹرین وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی دعوت پر تھا۔ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ آسٹریا میں وزیر اعظم نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی ملاقات کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے قیام میں کردار ادا کرے گا ۔ بورڈ آف پیس سے امیدیں وابستہ ہیں جس سے غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم امن عمل میں شریک ہوں گے تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔ امید ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس غزہ کے عوام کی مشکلات کو کم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پروفیسر احسن اقبال نے نئی بنگلا دیشی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ رواں ہفتے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق متنازع قانون کی شدید مذمت کی۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس دیکھی ہیں ۔ پاکستان میں بھارتی پشت پناہی سے فعال دہشت گرد گروہوں کے شواہد موجود ہیں۔ انٹرنیشنل اسسٹنس سیکیورٹی فورسز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ کی مشیر مسز مصباح کھر کی متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ملاقات چیئرمین سینیٹ کی مشیر مسز مصباح کھر کی متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ملاقات پاکستان اور پرتگال تعلقات: خیرسگالی ملاقات اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ایران کے خلاف کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، روسی وزیر خارجہ صدر ایف پی سی سی آئی کا ڈی ایل ٹی ایل نوٹیفکیشن کا خیرمقدم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کی مالی امداد میں اضافہ اسلام آباد؛ امام بارگاہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو امدادی رقوم کے چیکس تقسیمCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں پاکستان غزہ میں نے بتایا کہ دفتر خارجہ انہوں نے امن کے ہوں گے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔