کفر جب میدان میں مسلمان کا مقابلہ نہیں کر پاتا تو پھر وہ ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی تدبیریں کرتا ہے، عبدالقدیر اعوان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سلسلہ نقشبندیہ کے امیر نے کہا کہ جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں، یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے، لیکن کوئی بات نہیں کر رہا، کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے، سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں، مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کفر مسلمانوں کو سودی معیشت کے اندر جکڑ رہا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے فحاشی اور عریانی کو عام کر رہا ہے، ہمیں حرام پر لگا رہا ہے، یہ سارے آج کے دور کے وہ حملے ہیں جن کے ذریعے اسلام دشمن عناصر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہم میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے اس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا وہ چاہتا ہے اور کمزور مجبور ہے ان کی پیروی کرنے کیلئے۔ انصاف کے نام پر قومیں حاکم بن گئی ہیں اور انصاف کے نام پر ہی قوموں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں، یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے، لیکن کوئی بات نہیں کر رہا، کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے، سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں، مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے، ہم نے دینی اور دنیاوی اصول چھوڑ دیئے ہیں اور بے راہروی کا شکار ہو گئے، آج بھی اگر دینی اصولوں کو اپنایا جائے، ان پر عمل کیا جائے تو ہم دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر بحیثیت مجموعی ہم توبہ کریں اللہ سے مدد مانگیں تو ہم اس دنیا کو لیڈ کر سکتے ہیں، اللہ کریم تمام جہانوں کے پالنہار ہیں، جو بھی اس دنیا میں اللہ کی نعمتیں حاصل کر رہا ہے، وہ اللہ کی صفت رحمانیت سے حاصل کر رہا ہے، جو اس کو نہیں مان رہا اس کو بھی سب مل رہا ہے، ہم تو اس کے ماننے والے ہیں، ہم اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے، اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہو رہا ہے انصاف کی انہوں نے نہیں کر کر سکتے ظلم ہو کر رہا کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔