کراچی میں گیس سلنڈر دھماکا؛ چھت گرنے سے 16 افراد جاں بحق، 14 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے سولجر بازار میں ایک رہائشی عمارت میں سلنڈر دھماکے کے باعث افسوسناک حادثہ پیش آیا.جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے کے باعث عمارت کی چھت اور کچھ حصہ منہدم ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے ایک بچے اور ایک مرد سمیت مزید لاشیں نکالنے کی تصدیق کی ہے۔ریسکیو 1122 اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں جس کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ گیس لیکج کے باعث پیش آنے والے سلنڈر دھماکے کا نتیجہ ہے۔ واقعے میں دو گھر متاثر ہوئے، ایک وہ جہاں دھماکا ہوا جبکہ ساتھ موجود کرائے دار کا گھر بھی متاثر ہوا۔پولیس اور امدادی اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی، ڈی آئی جی ایسٹ
ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکج کا ہے، ملبے سے 14 افراد کی لاشوں کو نکالا جاچکا ہے جبکہ ملبے میں ایک لاش دبے ہونے کا خدشہ ہے، ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیمیکل ایگزامن کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین ہوسکے گا، واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی.
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم کا واقعے کے مقام کا دورہ
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم نے واقعے کے مقام کا دورہ کیا، جہاں ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکہ گیس لیکیج کے باعث پیش آیا جبکہ گیس سلنڈر نہیں پھٹا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ ایسٹ کے انچارج عابد فاروق کے مطابق متاثرہ گھر کے باورچی خانے میں گیس کی فٹنگ ناقص تھی اور مختلف جگہوں پر گیس کی سپلائی کے لیے پلاسٹک کے پائپ استعمال کیے گئے تھے، جس کے باعث لیکیج کا امکان بڑھ گیا۔انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک پائپ اور جوڑوں کی وجہ سے گیس کا اخراج زیادہ ہوتا ہے، جبکہ گھر میں گیس کھینچنے والی مشینیں بھی نصب تھیں۔عابد فاروق کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ علاقے میں کئی روز سے گیس کی سپلائی نہیں آرہی تھی، تاہم گزشتہ رات اچانک گیس کی سپلائی تیز ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر گیس کی چابی کھلی رہنے اور بعد ازاں شارٹ سرکٹ یا ماچس جلانے کے باعث دھماکہ ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں پیش آنے والے زیادہ تر واقعات گیس لیکج کے باعث ہوتے ہیں، نہ کہ گیس سلنڈر دھماکوں کے سبب۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث عمارت میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں کو ملبے تلے دبے افراد کو فوری نکالنے کی ہدایت دی۔
زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ کی کی ہدایت
وزیراعلیٰ نے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہر طرح سے تعاون کیا جائے۔مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سولجر بازار میں دھماکے کی وجوہات کیا ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق گیس لیکج کی جائیں میں گیس کے باعث کہا کہ گیس کی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔