کینسر مریضوں کیلئے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ایف آئی اے کی احسن آباد میں کارروائی ،غیر رجسٹرڈ ادویات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی
فیکٹری میں بننے والی دوا بہت خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا ہے،ذرائع
شہر قائد میں کینسر کے مریضوں کے لیے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپے میں ادویہ کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے شہر کے مضافاتی علاقے احسن آباد میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپا مارا، جہاں سے کینسر کے مریضوں کے لیے تجویز کردہ درد کش دوا کی بہت بڑی کھیپ تحویل میں لے لی گئی۔فیکٹری میں دوا کی قانونی ڈوز زیادہ سے زیادہ 50 ملی گرام ہے مگرفیکٹری میں 225 ایم جی دوا تیار کی جارہی تھی ، جو بہت خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا ہے۔ تیار ہونے والی دوا پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی غیر قانونی چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی رہی ہے۔ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران اس دوا کی ایک کھیپ کو منڈیوں کے لیے بھی روک دیا گیا۔ غیر قانونی جعلی ادویات،(خام مال) اور پکڑی گئی مشینری کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جب کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔