نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی برطانوی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیویلمنٹ افیئرز ایویت کوپر سے ملاقات کی ہے، دونوں رہنماؤں نے باہمی امور کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی امن و خوشحالی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ویانا میں خطاب
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جمعرات کے روز نیو یارک میں فلسطین پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے برطانیہ کی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ ایفیئرز ایویت کوپر سے ملاقات کی، جنہوں نے اس اجلاس کی صدارت کی۔
اسحاق وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اس اہم اجلاس کے انعقاد پر ایویت کوپر کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اعلیٰ سطحی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، بشمول عوامی سطح پر تبادلے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون عہدیدار کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و تحفظ پر تبادلہ خیال
ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی اہم معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا اور مکالمہ، کثیرالجہتی نقطۂ نظر، اور مؤثر تعاون بشمول اقوامِ متحدہ کے فریم ورک میں جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسحاق ڈار اقوام متحدہ برطانیہ نائب وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اقوام متحدہ برطانیہ اسحاق ڈار سے ملاقات
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔