امتحانات میں نقل ناسور ہے، خاتمہ کیا جائے، ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کو سنجیدگی سے لینا اور امتحانات میں نقل کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے میٹرک کے امتحانات کے دوران نقل جیسی ناسور کو ختم کرنے کے لئے بلوچستان بورڈ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال بورڈ امتحانات کے دوران نسبتاً سنجیدگی نظر آ رہی ہے، جو قوم کے مستقبل کے لئے خوش آئین ثابت ہوگی۔ اساتذہ کی سنجیدگی کا ثمر ملک و قوم کی ترقی کی صورت میں نظر آئے گا۔ نقل ایک ایسا ناسور ہے جو ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس سے نجات ہماری ترقی کی بنیاد ثابت ہوگی۔
ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ امتحانات میں گزشتہ سال غالباً نقل کے ذریعے بہت سے طلباء نے نو سو سے بھی زیادہ نمبر لئے تھے، تاہم جب ایم ڈی کیٹ اور دیگر انٹری ٹیسٹس کی باری آئی تو بلوچستان بورڈ کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان بورڈ میں اچھے نمبرز لینے والے کچھ طلباء بنیادی ٹیسٹ بھی پاس نہ کر سکیں اور پورے صوبے کو شرمندہ کیا، تاہم یہ غلطی دوبارہ نہیں دوہرانی چاہئے۔ نقل اور سفارش سے پاک امتحان کے ذریعے ہی قابل طلباء اچھے نمبر حاصل کرکے آگے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے طلباء کو محنت اور لگن سے پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ نقل پر سختی کے دوران بلوچستان بورڈ کے عملے کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے طلباء محنت کریں۔ امتحانات میں شفافیت سے قابل طلباء کو انکا حق ملے گا، جبکہ نقل و سفارش کلچر بلوچستان کے محنتی طلباء کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ نقل ہی وہ ناسور ہے جو ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ طلباء ان باتوں کو سمجھیں اور صوبے کی ترقی کا باعث بنیں۔
آخر میں نقل اور سفارش کلچر کے خلاف اقدامات اٹھانے پر بلوچستان بورڈ کے عملے اور دیگر ذمہ داران کو بھی سراہا گیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کو سنجیدگی سے لینا اور نقل کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ بلوچستان کو محرومی سے نکالنے کے لئے فقط باتیں کافی نہیں ہیں، بلکہ ہمیں اپنی بنیادیں مضبوط کرنی ہونگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان بورڈ امتحانات میں کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔