ڈویژنل فاریسٹ آفیسر محکمہ جنگلات سوات پر 6 کروڑ 66 لاکھ روپے خرد برد کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر محکمہ جنگلات سوات پر 6 کروڑ 66 لاکھ روپے خرد برد کا الزام ہے۔
پشاور سے صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق مزید تقریباً 9 کروڑ سے زائد سرکاری فنڈز ملازم نے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، 93 لاکھ روپے ریکور کرکے سرکاری خزانے میں جمع کر دیے گئے۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات کو خط تحریر کیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج فوری کیا جائے، ملوث ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیلیے کارروائی کی جائے۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق کلیئرنس سے قبل چیک میں درج رقم کو ہندسوں اور الفاظ دونوں میں تبدیل کیاجاتا، تبدیل شدہ چیکس بینک سیدو شریف سوات میں لازمی تقاضے پورے کیے بغیر کلیئر کیے گئے۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق سات سال کے عرصے کے دوران فیڈرل ٹریژری رولز اور دیگر سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔
اطلاع ملنے پر محکمہ خزانہ نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس و بینک حکام سے رابطہ کیا۔
صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق ملزم سے 93 لاکھ ریکور کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے گئے، تحقیقات میں پیشرفت کے ساتھ مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صوبائی محکمہ خزانہ کے مطابق
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔