پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال پر افغان ناظم الامور دفتر خارجہ طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان کےخلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال پر ڈی مارش جاری کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں دہشت گرد حملے پر افغان حکومت کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا، پاکستان نے ٹی ٹی پی کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی پر اظہار تشویش کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق افغان عبوری حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان فتنہ الخوارج اور سہولت کاروں کیخلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کیخلاف ٹھوس اقدامات یقینی بنائے۔
خیال رہے کہ 16 فروری کو باجوڑ میں دہشت گرد حملے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔