جنوبی کوریا میں مارشل لا نافذ کرنے والے صدر کو بغاوت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیئول: جنوبی کوریا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب عدالت نے ملک کے سابق صدر یون سک یول کو بغاوت کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے اور پارلیمنٹ کو معطل کرنے کا اعلان دراصل آئینی نظام کو مفلوج کرنے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ سابق صدر نے فوج کو قومی اسمبلی بھیج کر جمہوری اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی منصوبہ بندی کی، جس سے ملک شدید سیاسی بحران اور سماجی انتشار کا شکار ہوا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یون سک یول نے بطور صدر اپنی آئینی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی اور فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار کو دوام دینے کی کوشش کی، ملزم نے سماعت کے دوران کسی مرحلے پر بھی اپنے اقدامات پر ندامت ظاہر نہیں کی، بلکہ اپنے فیصلے کا مسلسل دفاع کرتے رہے، جسے عدالت نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
سماعت کے دوران سابق صدر نے مؤقف اپنایا کہ آئین انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے اور انہوں نے یہ قدم اپوزیشن کی رکاوٹوں اور سیاسی جمود کو توڑنے کے لیے اٹھایا تھا، تاہم عدالت نے ان کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کا استعمال ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے نہیں بلکہ صرف انتہائی قومی ہنگامی حالات میں کیا جا سکتا ہے، جو اس وقت موجود نہیں تھے۔
اگرچہ استغاثہ کی جانب سے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر قید کو مناسب سزا قرار دیا۔ اس وقت سابق صدر سیئول ڈیٹینشن سینٹر میں قید ہیں، جبکہ ان کے وکلا نے فیصلے کو پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو اُس وقت کے صدر یون سک یول نے اچانک مارشل لا نافذ کر دیا تھا، جس کے چند گھنٹوں بعد ہی ملک بھر میں شدید عوامی احتجاج شروع ہو گیا۔ پارلیمنٹ نے فوری ووٹنگ کے ذریعے اس اقدام کو مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں مارشل لا واپس لینا پڑا اور صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔
بالآخر 2025 میں قومی اسمبلی نے مواخذے کی منظوری دے کر یون سک یول کو عہدۂ صدارت سے برطرف کر دیا، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا اور بغاوت سمیت متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ رواں سال کے آغاز میں ہی انہیں گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے ایک اور کیس میں پانچ سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی، جب کہ حالیہ فیصلہ اس قانونی سلسلے کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارشل لا نافذ کر یون سک یول عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔