سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمت میں 79 ڈالر کا بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 900 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 23 ہزار 962 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی و پاکستانی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 79 ڈالر کے اضافے سے 5 ہزار 12 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 7 ہزار 900 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 23 ہزار 962 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 6 ہزار 773 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 49 ہزار 212 روپے کی سطح پر آگئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 358 روپے کے اضافے سے 8 ہزار 404 روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 7 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کے اضافے سے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔