ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے کی اسرائیلی ڈرونز ساز کمپنی میں سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے بیٹے، ایریک ٹرمپ نے اسرائیلی ڈرون ساز کمینی ایکسٹینڈ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ 1.5 ارب ڈالر کا معاہدہ کمپنی کو فلوریڈا کی ایک تعمیری کمپنی جے ایف بی کنسٹرکشن) کے ساتھ مرجر کے ذریعے پبلک کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل کا 10 ملین ڈالر مالیت کا جاسوس ڈرون مار گرایا
ایکسٹینڈ اپنی کچھ ڈرون مصنوعات کو ‘low cost per kill’ یعنی کم لاگت فی ہلاکت والے ہتھیار کے طور پر مارکیٹ کرتی ہے۔ کمپنی نے حالیہ غزہ جارحیت کے دوران ان ڈرونز کا استعمال کیا، خاص طور پر شہری علاقوں اور قریبی لڑائی میں۔
امریکی فوجی معاہدے اور پیداواری توسیعکمپنی نے فلوریڈا میں پروڈکشن سائٹ قائم کی اور امریکی پینٹاگون سے ملین ڈالر کے معاہدے حاصل کیے۔ کمپنی کو یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف وار کے ‘ڈرون ڈومیننس پروگرام’ کے پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے، جس کی کل مالیت 1.
معاہدے میں ایریک ٹرمپ کے ساتھ انیوزوئل مشینز کمپنی بھی شامل ہے، جو امریکی صدر کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونئر کی معاونت اور رہنمائی میں ہے۔ ایکسٹینڈ کے سی ای او ایوِو شاپیرا کے مطابق جے ایف بی کنسٹرکشن کے ساتھ مرجر کمپنی کو امریکی پبلک کیپیٹل مارکیٹس تک رسائی دے گا اور پیداوار بڑھانے میں مدد کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی حمایت ترک کرنے تک امریکا سے تعاون نہیں ہوسکتا، آیت اللہ خامنہ ای
اس سرمایہ کاری پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، جس میں ٹرمپ خاندان کے کاروباری تعلقات اور ممکنہ مفادات کے تصادم پر بحث کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ڈومیناری ہولڈنگز نے جے ایف بی کنسٹرکشن میں 44 ملین ڈالر کی نجی شیئر پلیسمنٹ کا انتظام کیا تھا، جس کے بعد جے ایف بی کے شیئرز میں 400 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکی صدر ایرک ٹرمپ ڈرون ساز کمپنی ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ایرک ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری سرمایہ کاری ڈونلڈ ٹرمپ جے ایف بی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔