امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے بیٹے، ایریک ٹرمپ نے اسرائیلی ڈرون ساز کمینی ایکسٹینڈ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ 1.5 ارب ڈالر کا معاہدہ کمپنی کو فلوریڈا کی ایک تعمیری کمپنی جے ایف بی کنسٹرکشن) کے ساتھ مرجر کے ذریعے پبلک کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل کا 10 ملین ڈالر مالیت کا جاسوس ڈرون مار گرایا

ایکسٹینڈ اپنی کچھ ڈرون مصنوعات کو ‘low cost per kill’ یعنی کم لاگت فی ہلاکت والے ہتھیار کے طور پر مارکیٹ کرتی ہے۔ کمپنی نے حالیہ غزہ جارحیت  کے دوران ان ڈرونز کا استعمال کیا، خاص طور پر شہری علاقوں اور قریبی لڑائی میں۔

امریکی فوجی معاہدے اور پیداواری توسیع

کمپنی نے فلوریڈا میں پروڈکشن سائٹ قائم کی اور امریکی پینٹاگون سے ملین ڈالر کے معاہدے حاصل کیے۔ کمپنی کو یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف وار  کے ‘ڈرون ڈومیننس پروگرام’  کے پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے، جس کی کل مالیت 1.

1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

ٹرمپ خاندان کی حمایت

معاہدے میں ایریک ٹرمپ کے ساتھ انیوزوئل مشینز کمپنی بھی شامل ہے، جو امریکی صدر کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونئر کی معاونت اور رہنمائی میں ہے۔ ایکسٹینڈ کے سی ای او ایوِو شاپیرا کے مطابق جے ایف بی کنسٹرکشن کے ساتھ مرجر کمپنی کو امریکی پبلک کیپیٹل مارکیٹس تک رسائی دے گا اور پیداوار بڑھانے میں مدد کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی حمایت ترک کرنے تک امریکا سے تعاون نہیں ہوسکتا، آیت اللہ خامنہ ای

اس سرمایہ کاری پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، جس میں ٹرمپ خاندان کے کاروباری تعلقات اور ممکنہ مفادات کے تصادم پر بحث کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ڈومیناری ہولڈنگز  نے جے ایف بی کنسٹرکشن میں 44 ملین ڈالر کی نجی شیئر پلیسمنٹ کا انتظام کیا تھا، جس کے بعد جے ایف بی کے شیئرز میں 400 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکی صدر ایرک ٹرمپ ڈرون ساز کمپنی ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ایرک ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری سرمایہ کاری ڈونلڈ ٹرمپ جے ایف بی

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ