سانحہ گل پلازہ کراچی، تحقیقاتی کمیشن نے ایس بی سی اے کو سوالنامہ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
تحقیقاتی کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے کو 47 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کرتے ہوئے جوابات مانگ لیے، جبکہ کمیشن نے ایس بی سی اے سے گل پلازہ کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں رونما ہونے والے سانحہ گل پلازہ کیلئے قائم تحقیقاتی کمیشن نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو سوالنامہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے کو 47 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کرتے ہوئے جوابات مانگ لیے، جبکہ کمیشن نے ایس بی سی اے سے گل پلازہ کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ایس بی سی اے کہتا ہے جب تک شکایت نہ ہو کارروائی نہیں کر سکتے، آج ایک اور واقعہ ہوا ہے، جس میں 16 لوگ جاں بحق ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ 40 سے 50 گز پر وہ عمارت بنی ہوئی تھی، 40 سے 50 گز پر ہائی رائز عمارت کی اجازت ہو سکتی ہے، اس عمارت کی بھی کسی نے شکایت نہیں کی ہوگی۔ کمیشن نے ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو سے سوال کیا کہ ہم نے پوچھا آپریشن کمانڈ کس کے پاس تھی، بتایا گیا کوئی نہیں تھا، اس پر جاوید کھوسو نے کہا کہ جب آگ لگی میں قریب ہی تھا، سب سے پہلے پہنچا، پروٹوکول کے تحت ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا اور ایس ایس پی سٹی بھی فوری پہنچے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوالنامہ جاری ایس بی سی اے کمیشن نے ڈی گل پلازہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔