امریکی فضائی حدودکا تمام پروازیں بحال کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی فضائی حدودکا تمام پروازیں بحال کرنے کا اعلان
واشنگٹن: امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے فضائی حدود کی عارضی بندش ختم کرکے تمام پروازیں بحال کرنے کا اعلان کردیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ٹیکساس کے ایل پاسو انٹرنیشنل ائرپورٹ کے اوپر فضائی حدود کی عارضی بندش کو ختم کرکے تمام پروازیں بحال کرنے کا اعلان کردیا جو اس سے قبل سیکورٹی وجوہات کی بنا پر روک دی گئی تھیں۔ مقامی میڈیا نے بتا یا کہ ایف اے اے نے ایک بیان میں کہا کہ ایل پاسو کے اوپر عارضی فضائی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ مذکورہ اقدام کے باعث تجارتی پروازوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق گزشتہ دنوں میکسیکن ڈرگ کارٹلز کے ڈرونز نے امریکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاہم فوج نے انہیں ناکام بنا دیا۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ امریکی فوج کے مطابق یہ واقعہ ایل پاسو ہوائی اڈے کی اچانک بندش اور بعد میں اسے دوبارہ کھولنے کے بعد سامنے آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تمام پروازیں بحال کرنے کا اعلان
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔