سٹی 42 : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے ویژن کے مطابق ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیوروسارہ احمد نے رحیم یار خان میں قائم چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مرکز کو فعال کر دیا ہے۔ یہ مرکز کچھ عرصہ قبل چائلڈ کیئرنگ اسٹاف کی کمی کے باعث عارضی طور پر غیر فعال کر دیا گیا تھا، تاہم اب اسے جدید سہولیات اور نئے عزم کے ساتھ بحال کر دیا گیا ہے۔

مرکز کی بحالی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں معزز اراکینِ اسمبلی جن میں رئیس نبیل، عشرت اشرف، مہوش سلطانہ، نسرین ریاض، کمشنر بہاولپور مسرت جبین، اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان ظہیر انور جپہ کے علاوہ سماجی شخصیات، مخیر حضرات اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

لاہور:ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی مہلت، لین ڈسپلن یقینی بنانے کی ہدایت جاری

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو محترمہ سارہ احمد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مرکز نہ صرف لاوارث اور بے سہارا بچوں کو محفوظ پناہ فراہم کرے گا بلکہ انہیں معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی، تشدد یا استحصال کا واقعہ پیش آئے تو بیورو کا مضبوط ریفرل سسٹم قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرے گا۔

اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قلت،شہری پریشان

انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا واضح پیغام ہے “ہم زندگیاں بدلتے ہیں”

انہوں نے رحیم یار خان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے لیے ادارے کے ساتھ تعاون کریں اور اگر کسی بچے کو مدد کی ضرورت ہو تو چائلڈ ہیلپ لائن 1121 پر فوری اطلاع دیں۔

تقریب کے اختتام پر چیئرپرسن سارہ احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ مرکز علاقے کے بچوں کے لیے تحفظ، محبت اور روشن مستقبل کی علامت بنے گا۔

پنجاب یونیورسٹی کو سکیورٹی اہلکاروں کی کمی، 50 نئی بھرتیوں کا اعلان

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: چائلڈ پروٹیکشن بیورو رحیم یار خان

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟