ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کی زیر صدارت قومی اسمبلی ایجوکیشن کی زیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکٹری تعلیم نے کمیٹی کو بریفننگ دی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کسی ادارے اور یونیورسٹی میں ڈسلیکسیا کی تھراپی کی ٹریننگ پروگرام نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ کچھ بچوں میں بعض مضامین کو سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے ۔ بچوں کے اسکریننگ ٹیسٹ ،اساتذہ کی پروفیشنل ٹریننگ ہم کر چکے ہیں۔بچوں کو ریاضی جیسے مضامین یا دیگر مضامین کو سمجھنے میں مسائل کے خاتمے پر کام جاری ہے۔ پاکستان میں ایسی ٹرینگ کیلئے کم از کم 6 مہینے چاہیئے۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی کے ساتھ ہم نے ایم او یو سائن کیا ۔انکے ساتھ ہم نے ٹیم بنائی اور چار ہزار سے زائد بچوں کی اسکریننگ کرائی۔ یہ ٹیمز صرف پرائمری اسکولوں میں جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کا ہمارا ٹارگٹ ہے۔ ڈسلیکسیا بچوں کو پڑھنے لکھنے کے مسائل کا ایجنڈا زیرِ بحث ہے۔

وزارت تعلیم حکام کا کہنا تھا کہ ڈسلیکسیا بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو زبانوں اور میتھ میں سمجھنے پڑھنے میں مشکلات آتی ہیں۔ قومی بک فاؤنڈیشن کی مدد سے لرننگ مواد وزارت تعلیم نے تیار کیا ہے۔ ڈسلیکسیا بچوں کو اسپیشل بچوں کی کیٹیگری میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

ممبر کمیٹی زیب جعفر نے کہا کہ ڈسلیکسیا بچے معذور نہیں ہوتے، اس بات کو واضح دیکھنا ہوگا، ڈسلیکسیا بچوں کو اسپیشل سمجھ کر اسکولوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کے لیے سائیکالوجسٹ اور ایک ملٹی ڈسپلنری ٹیم ہونی چاہیے۔

 

نمائندہ نجی تنظیم نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولوں کے مالکان کو اس بارے میں بتانا ہوگا پابند کرنا ہوگا۔ اسلام آباد کے اسکولوں میں ایک لاکھ بچوں کو ٹارگٹ کرکے ہم ان کیلئے نیا پراسس شروع کرنے جارہے ہیں۔

ڈائریکٹر ایف ڈی ای کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک نجی کمپنی سے رابطہ کیا لیکن ان کے پاس 60 تھراپسٹ نہیں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم اگلی کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بریفنگ لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بچوں کو

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا