مخصوص مضامین میں کمزور بچوں کے لیے نئے تعلیمی پراسس شروع کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کی زیر صدارت قومی اسمبلی ایجوکیشن کی زیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکٹری تعلیم نے کمیٹی کو بریفننگ دی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کسی ادارے اور یونیورسٹی میں ڈسلیکسیا کی تھراپی کی ٹریننگ پروگرام نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ کچھ بچوں میں بعض مضامین کو سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے ۔ بچوں کے اسکریننگ ٹیسٹ ،اساتذہ کی پروفیشنل ٹریننگ ہم کر چکے ہیں۔بچوں کو ریاضی جیسے مضامین یا دیگر مضامین کو سمجھنے میں مسائل کے خاتمے پر کام جاری ہے۔ پاکستان میں ایسی ٹرینگ کیلئے کم از کم 6 مہینے چاہیئے۔
ڈائریکٹر ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی کے ساتھ ہم نے ایم او یو سائن کیا ۔انکے ساتھ ہم نے ٹیم بنائی اور چار ہزار سے زائد بچوں کی اسکریننگ کرائی۔ یہ ٹیمز صرف پرائمری اسکولوں میں جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کا ہمارا ٹارگٹ ہے۔ ڈسلیکسیا بچوں کو پڑھنے لکھنے کے مسائل کا ایجنڈا زیرِ بحث ہے۔
وزارت تعلیم حکام کا کہنا تھا کہ ڈسلیکسیا بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو زبانوں اور میتھ میں سمجھنے پڑھنے میں مشکلات آتی ہیں۔ قومی بک فاؤنڈیشن کی مدد سے لرننگ مواد وزارت تعلیم نے تیار کیا ہے۔ ڈسلیکسیا بچوں کو اسپیشل بچوں کی کیٹیگری میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
ممبر کمیٹی زیب جعفر نے کہا کہ ڈسلیکسیا بچے معذور نہیں ہوتے، اس بات کو واضح دیکھنا ہوگا، ڈسلیکسیا بچوں کو اسپیشل سمجھ کر اسکولوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کے لیے سائیکالوجسٹ اور ایک ملٹی ڈسپلنری ٹیم ہونی چاہیے۔
نمائندہ نجی تنظیم نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولوں کے مالکان کو اس بارے میں بتانا ہوگا پابند کرنا ہوگا۔ اسلام آباد کے اسکولوں میں ایک لاکھ بچوں کو ٹارگٹ کرکے ہم ان کیلئے نیا پراسس شروع کرنے جارہے ہیں۔
ڈائریکٹر ایف ڈی ای کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک نجی کمپنی سے رابطہ کیا لیکن ان کے پاس 60 تھراپسٹ نہیں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم اگلی کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بریفنگ لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بچوں کو
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت