’ماڈرن پنجاب‘ کا تعلیمی روڈ میپ: سرکاری اسکولوں میں ہمہ جہت اصلاحات کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں تعلیمی انقلاب کے لیے بڑے اور تاریخ ساز فیصلوں کی منظوری دیتے ہوئے سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں سے برتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
’کلاس روم سے کیمرے تک اور ڈریس کوڈ سے ڈسٹنس لرننگ تک‘ کے وژن کے تحت پنجاب میں سرکاری تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں اسکول ایجوکیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں تعلیمی اصلاحات کے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بناؤں گی، مریم نواز کا تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کا حکم
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں کو ’’سیف اینڈ کلین زون‘‘ بنایا جائے گا اور عالمی شہرت یافتہ پروگرام ’ستھرا پنجاب‘ بھی اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا۔ صفائی اور دیکھ بھال کے لیے ستھرا پنجاب کی سروسز حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
طلبا اور اساتذہ کے تحفظ کے لیے سرکاری اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے جبکہ پہلی مرتبہ سرکاری اساتذہ کے لیے ’پروفیشنل ڈریس کوڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ہیلتھ سیکٹر کی بہتری ترجیح، 10 ہزار سے زائد بچوں کی ہارٹ سرجریز مکمل کر چکے ہیں، مریم نواز
اسی طرح اسپوکن انگلش کورسز، ایمپاورمنٹ کارڈ اور نئے ایگزامینیشن گریڈ سسٹم کی منظوری بھی دی گئی۔
نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت 15 مارچ سے امتحانات شروع ہوں گے اور 31 مارچ کو نتائج جاری کیے جائیں گے، جبکہ پہلی مرتبہ آن لائن پیپر چیکنگ کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا۔
ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول تعلیم کا آغازپنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں میں ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول لرننگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے طلبا کو بھی معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
صوبے کے 344 اسکولوں میں 42 ہزار 614 طلبا اور 3566 اساتذہ کے لیے اسپوکن انگلش کلاسز جاری ہیں جبکہ وزیراعلیٰ نے 5 لاکھ طلبا تک یہ پروگرام توسیع دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، پنجاب کے 13 اضلاع میں 11 لاکھ 37 ہزار طلبا کے لیے سکول میل پروگرام جاری ہے۔
آؤٹ سورسنگ کا مثبت اثر، داخلوں میں ریکارڈ اضافہپنجاب پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت آؤٹ سورسنگ فیز فور کی منظوری دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق آؤٹ سورسنگ کے بعد اسکولوں میں انرولمنٹ میں 800 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فیز ون کی تکمیل کے بعد 114 فیصد جبکہ فیز ٹو کے بعد 24 فیصد اضافہ ہوا۔
اساتذہ کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، فیز ون میں 40 فیصد اور فیز 2 میں 46 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ آؤٹ سورسنگ کے بعد 540 اسکولوں میں 866 نئے کلاس روم تعمیر کیے گئے جبکہ 9033 کمروں کی تعمیر و مرمت کی گئی۔
مزید پڑھیں: 3 لاکھ روپے تک بلاسود قرض، مریم نواز نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی
5345 کلاس رومز کی مرمت، 27 لاکھ مربع فٹ سے زائد چار دیواری کی تعمیر و بحالی، 5067 ٹائلٹس کی تعمیر و مرمت اور 8911 اسکولوں میں پینٹ ورک مکمل کیا گیا۔
اسی طرح 160450 نئے فرنیچر سیٹ فراہم کیے گئے، 3665 واٹر ٹینک اور 18380 واٹر کولر نصب کیے گئے۔ 20 اسکولوں کو میٹرک جبکہ 2219 اسکولوں کو ایلیمنٹری لیول تک اپ گریڈ کیا گیا۔
نواز شریف اسکول آف ایمیننساعلامیے کے مطابق مارچ تک 140 نواز شریف اسکول آف ایمی ننس پی پی پی موڑ پر فعال ہو جائیں گے، جہاں جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ ہر بچہ سرکاری اسکول میں معیاری تعلیم حاصل کرے اور اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی سنوارے۔
’ہم سرکاری سکول کا معیار ایسا بنانا چاہتے ہیں کہ ہر والدین اپنے بچے کو فخر سے سرکاری اسکول میں داخل کرائیں، پنجاب کے ہر اسکول کی حالت بہتر بنانا میری ذمہ داری ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آؤٹ سورسنگ آڈیو ویژول لرننگ اسکول آف ایمیننس اسکول ایجوکیشن آن لائن انرولمنٹ پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پنجاب پیپر چیکنگ تعلیمی اصلاحات ڈسٹنس لرننگ مریم نواز نواز شریف وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول ا ف ایمیننس اسکول ایجوکیشن ا ن لائن انرولمنٹ پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پیپر چیکنگ تعلیمی اصلاحات مریم نواز نواز شریف وزیر اعلی سرکاری اسکولوں سرکاری اسکول اسکولوں میں اسکولوں کو نواز شریف کی منظوری مریم نواز کیا گیا کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :