وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں تعلیمی انقلاب کے لیے بڑے اور تاریخ ساز فیصلوں کی منظوری دیتے ہوئے سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں سے برتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

’کلاس روم سے کیمرے تک اور ڈریس کوڈ سے ڈسٹنس لرننگ تک‘ کے وژن کے تحت پنجاب میں سرکاری تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں اسکول ایجوکیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں تعلیمی اصلاحات کے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بناؤں گی، مریم نواز کا تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کا حکم

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں کو ’’سیف اینڈ کلین زون‘‘ بنایا جائے گا اور عالمی شہرت یافتہ پروگرام ’ستھرا پنجاب‘ بھی اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا۔ صفائی اور دیکھ بھال کے لیے ستھرا پنجاب کی سروسز حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

طلبا اور اساتذہ کے تحفظ کے لیے سرکاری اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے جبکہ پہلی مرتبہ سرکاری اساتذہ کے لیے ’پروفیشنل ڈریس کوڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں ہیلتھ سیکٹر کی بہتری ترجیح، 10 ہزار سے زائد بچوں کی ہارٹ سرجریز مکمل کر چکے ہیں، مریم نواز

اسی طرح اسپوکن انگلش کورسز، ایمپاورمنٹ کارڈ اور نئے ایگزامینیشن گریڈ سسٹم کی منظوری بھی دی گئی۔

نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت 15 مارچ سے امتحانات شروع ہوں گے اور 31 مارچ کو نتائج جاری کیے جائیں گے، جبکہ پہلی مرتبہ آن لائن پیپر چیکنگ کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا۔

ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول تعلیم کا آغاز

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اسکولوں میں ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول لرننگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے طلبا کو بھی معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

صوبے کے 344 اسکولوں میں 42 ہزار 614 طلبا اور 3566 اساتذہ کے لیے اسپوکن انگلش کلاسز جاری ہیں جبکہ وزیراعلیٰ نے 5 لاکھ طلبا تک یہ پروگرام توسیع دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، پنجاب کے 13 اضلاع میں 11 لاکھ 37 ہزار طلبا کے لیے سکول میل پروگرام جاری ہے۔

آؤٹ سورسنگ کا مثبت اثر، داخلوں میں ریکارڈ اضافہ

پنجاب پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت آؤٹ سورسنگ فیز فور کی منظوری دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق آؤٹ سورسنگ کے بعد اسکولوں میں انرولمنٹ میں 800 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فیز ون کی تکمیل کے بعد 114 فیصد جبکہ فیز ٹو کے بعد 24 فیصد اضافہ ہوا۔

اساتذہ کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، فیز ون میں 40 فیصد اور فیز 2 میں 46 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ آؤٹ سورسنگ کے بعد 540 اسکولوں میں 866 نئے کلاس روم تعمیر کیے گئے جبکہ 9033 کمروں کی تعمیر و مرمت کی گئی۔

مزید پڑھیں: 3 لاکھ روپے تک بلاسود قرض، مریم نواز نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی

5345 کلاس رومز کی مرمت، 27 لاکھ مربع فٹ سے زائد چار دیواری کی تعمیر و بحالی، 5067 ٹائلٹس کی تعمیر و مرمت اور 8911 اسکولوں میں پینٹ ورک مکمل کیا گیا۔

اسی طرح 160450 نئے فرنیچر سیٹ فراہم کیے گئے، 3665 واٹر ٹینک اور 18380 واٹر کولر نصب کیے گئے۔ 20 اسکولوں کو میٹرک جبکہ 2219 اسکولوں کو ایلیمنٹری لیول تک اپ گریڈ کیا گیا۔

نواز شریف اسکول آف ایمیننس

اعلامیے کے مطابق مارچ تک 140 نواز شریف اسکول آف ایمی ننس پی پی پی موڑ پر فعال ہو جائیں گے، جہاں جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ ہر بچہ سرکاری اسکول میں معیاری تعلیم حاصل کرے اور اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی سنوارے۔

’ہم سرکاری سکول کا معیار ایسا بنانا چاہتے ہیں کہ ہر والدین اپنے بچے کو فخر سے سرکاری اسکول میں داخل کرائیں، پنجاب کے ہر اسکول کی حالت بہتر بنانا میری ذمہ داری ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آؤٹ سورسنگ آڈیو ویژول لرننگ اسکول آف ایمیننس اسکول ایجوکیشن آن لائن انرولمنٹ پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پنجاب پیپر چیکنگ تعلیمی اصلاحات ڈسٹنس لرننگ مریم نواز نواز شریف وزیر اعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکول ا ف ایمیننس اسکول ایجوکیشن ا ن لائن انرولمنٹ پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پیپر چیکنگ تعلیمی اصلاحات مریم نواز نواز شریف وزیر اعلی سرکاری اسکولوں سرکاری اسکول اسکولوں میں اسکولوں کو نواز شریف کی منظوری مریم نواز کیا گیا کے بعد کے لیے

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس