کشمیر کے سبھی سیاحتی مقامات مئی تک کھولے جائیں گے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اراکین اسمبلی کی جانب سے مختلف علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ ہر خوبصورت مقام کو سیاحتی مرکز نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ بالآخر فیصلہ سیاح خود کرتے ہیں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جموں و کشمیر میں بند سبھی سیاحتی مقامات کو مئی تک مرحلہ وار دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا عمل آئندہ مالی سال سے شروع کیا جائے گا۔ محکموں کی گرانٹس سے متعلق بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد گزشتہ برس سیاحت کو دوبارہ فروغ دینا ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا کیونکہ سیاحوں کی واپسی کے حوالے سے خدشات پائے جا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد سیاحتی مقامات بند ہونے کے باوجود لوگوں کو جموں و کشمیر آنے کی ترغیب دی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سونہ مرگ، گلمرگ اور پہلگام جیسے سیاحتی مقامات سیلانیوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ سرینگر میں ہوٹلوں کی بکنگ 40 فیصد سے زائد ہے۔ ان کے مطابق باقی بند سیاحتی مقامات بھی مئی تک کھول دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس پہلگام دہشتگرد حملے کے بعد ایل جی انتظامیہ نے وادی کشمیر کے کئی سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا تھا، اگرچہ مرحلہ وار کئی ایک مقامات واپس سیاحتی سرگرمیوں کے لیے کھول دئے گئے تاہم ابھی بھی متعدد مقامات بند ہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مرکزی معاونت والی اسکیموں کے تحت نو نئے سیاحتی مقامات بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن میں سیون لیکس ڈیسٹینیشن بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ایک کروڑ سے زائد یاتری ویشنو دیوی گپھا کا رخ کرتے ہیں اور اگر ان میں سے دس فیصد کو بھی جموں خطے کے دیگر سیاحتی مقامات کی جانب راغب کیا جائے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو سرحدی علاقوں، بھدرواہ اور دیگر مقامات تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اراکین اسمبلی کی جانب سے مختلف علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ ہر خوبصورت مقام کو سیاحتی مرکز نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ بالآخر فیصلہ سیاح خود کرتے ہیں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔
جموں و کشمیر کو خود کفیل بنانے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پیداوار میں اضافہ ہی واحد راستہ ہے۔ آئندہ چند برسوں میں 3000 سے 3500 میگاواٹ بجلی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے جبکہ اگلے 15 برس میں 18 ہزار میگاواٹ صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے معیشت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے ایس اے ایس سی آئی SASCI اسکیم کو زمینی سطح پر ترقی کے لیے مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج لیا گیا 3000 کروڑ روپے کا قرض آئندہ دہائیوں میں کم مالی بوجھ ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے سرینگر اور جموں میں عمودی رہائشی کالونیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا، جن میں معاشی طور پر کمزور طبقات کے لئے رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاحتی مقامات کو سیاحتی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔