افطاری کیلیے اداکارہ صبا فیصل کس وقت فروٹ چاٹ بناتی ہیں؛ مداح حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
معروف سینئر اداکارہ صبا فیصل نے رمضان سے متعلق ایک پروگرام میں اپنے معمولات پر کھل کر گفتگو کی تاہم اس پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
ماہ رمضان میں سحر و افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ شعبہ خواتین کا بھی پسندیدہ شعبہ ہے۔ جس میں شوبز خواتین بھی کسی سے کم نہیں۔
صبا فیصل نے بتایا کہ وہ رمضان میں فروٹ چاٹ دوپہر تقریباً 12 بجے ہی تیار کرلیتی ہیں اور اس میں چاٹ مصالحہ بھی اسی وقت شامل کر دیتی ہیں کیونکہ افطار شام میں ہوتا ہے۔
اداکارہ صبا فیصل کے بقول یہ ان کا ذاتی اور آزمودہ طریقہ ہے جس پر وہ برسوں سے عمل کر رہی ہیں۔
تاہم اداکارہ کا یہ بیان سوشل میڈیا صارفین کو ہضم نہ ہوسکا۔ کچھ خواتین نے تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی تیار کی گئی فروٹ چاٹ شام تک خراب یا سیاہ ہو سکتی ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ پھر تو پھل شام تک کالے ہو جاتے ہوں گے جبکہ ایک اور تبصرہ تھا کہ یہ تو بہت قدیم طریقہ لگتا ہے۔
البتہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا اپنا طریقہ ہوتا ہے اور اگر کوئی برسوں سے کسی معمول پر عمل کر رہا ہو تو اسے غیر ضروری تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔