غزہ قتل عام میں 640 ڈچ شہریوں نے بھی صیہونی فوج کا ساتھ دیا، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ 2025ء میں کم از کم 645 ایسے فوجی خدمات انجام دے رہے تھے جو بیک وقت اسرائیلی اور ڈچ شہریت رکھتے تھے، جبکہ ان میں سے 80 سے زائد کے پاس تیسری شہریت بھی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ ایک نئے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں جاری نسل کش جنگ اور مغربی کنارے پر حملوں کے دوران 640 سے زائد ڈچ شہریوں نے اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر قتل عام میں حصہ لیا۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ 2025ء میں کم از کم 645 ایسے فوجی خدمات انجام دے رہے تھے جو بیک وقت اسرائیلی اور ڈچ شہریت رکھتے تھے، جبکہ ان میں سے 80 سے زائد کے پاس تیسری شہریت بھی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا غیر فعال ریزرو اہلکار بھی ان اعداد میں شامل تھے یا نہیں۔ امریکا میں قائم چند فلاحی اداروں کے علیحدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم 21 ڈچ شہری خاص طور پر نیدرلینڈز سے سفر کر کے بطور “لون سولجرز” ( ایسے فوجی جو اسرائیل میں والدین کے بغیر آزادانہ طور پر شامل ہوتے ہیں) اسرائیلی فوج میں شامل ہوئے۔ ان فوجیوں کی تعیناتی کے مقامات چاہے وہ غزہ ہوں، 1948ء میں مقبوضہ علاقے ہوں یا مقبوضہ مغربی کنارہ، واضح نہیں کیے گئے۔
اسرائیلی محقق لیور یوہانانی کے مطابق اسرائیل میں دوہری شہریت عام ہے، جبکہ ڈچ حکومت کے اندازوں کے مطابق تقریباً 12,000 ڈچ آبادکار اسرائیل میں مقیم ہیں۔ 18 سے 29 سال کی عمر کے وہ افراد جو اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں، عموماً فوجی بھرتی (لازمی سروس) کے پابند ہوتے ہیں، تاہم بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے استثنا ممکن ہے۔ سنہ 2025ء میں 70 ممالک سے تعلق رکھنے والے 3,700 سے زائد لون سولجرز اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے، جو اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں بین الاقوامی شمولیت کو نمایاں کرتا ہے۔ تحقیقی ادارے Investico کی جانب سے حاصل کردہ تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ڈچ لون سولجرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج میں شمولیت ڈچ قانون کے تحت غیر قانونی نہیں ہے، تاہم نیدرلینڈز کے اندر بھرتی کرنا ممنوع ہے۔ 2019ء میں اسرائیلی وزارتِ انصاف کی ایک لیک شدہ یادداشت سے معلوم ہوا کہ حکام ان قانونی حساس معاملات سے آگاہ تھے اور انہوں نے ضوابط کا جائزہ لینے کے لیے ایک ڈچ لاء فرم کی خدمات حاصل کی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج میں کے مطابق
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔