اسلام آباد، علامہ راجہ ناصر عباس سے ڈاکٹر مشتاق حکیمی کی ملاقات، گلگت بلتستان الیکشن پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق، وسائل کی منصفانہ ملکیت اور باوقار آئینی تشخص کے حصول کیلئے جدوجہد مزید منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ نائب صدر ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان و امیدوار جی بی اسمبلی ڈاکٹر مشتاق حسین حکیمی نے سربراہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ صدر ایم ڈبلیو ایم روندو مولانا محمد اسحاق اور صدر مجلس علماء مکتب اہل مولانا محمد رضا انصاری بھی ہمراہ تھے۔ ملاقات میں ملک کے حالیہ ایشوز سمیت گلگت بلتستان کو درپیش بنیادی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں جیمز اینڈ منرلز کے مسائل، لینڈ ریفارمز، علاقائی زمینوں کی ملکیت، عوامی ملکیتی زمینوں کا تحفظ سمیت مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیز گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تنظیمی امور کو مزید مؤثر بنانے اور الیکشن کی تیاری کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں۔ ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق، وسائل کی منصفانہ ملکیت اور باوقار آئینی تشخص کے حصول کیلئے جدوجہد مزید منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد قادر آباد بیراج پر اونچے جبکہ مرالہ اور خانکی بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 95 ہزار 856 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خانکی بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 65 ہزار 438 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔