Islam Times:
2026-06-02@21:46:37 GMT

تشدد کی سیاست، داعش سے فتنہ پرور واقعات تک

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

تشدد کی سیاست، داعش سے فتنہ پرور واقعات تک

اسلام ٹائمز: سب سے خطرناک پہلو تشدد کو معمول بنانا ہے۔ داعش نے جرائم کی تکرار کے ذریعے متشدد ہونے اور تشدد کرنے سے متعلق عام حساسیت ختم کر دی۔ حالیہ فتنہ میں بھی تشدد کو ’’جد وجہد کی قیمت‘‘ کے طور پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج مر جاتا ہے اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ کی جانب سے داعش کی حمایت اور اس کی مسلح مدد کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ حالیہ پرتشدد واقعات میں بھی امریکی حکام نے کھلے عام تشدد کی حوصلہ افزائی کی اور فوری مدد کے وعدے کیے۔ نتیجہ سڑکوں پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور وسیع پیمانے پر تباہی کی صورت میں نکلا۔ حقیقی احتجاج اصلاح کا خواہاں ہوتا ہے، جبکہ داعش نما منطق خوف، ٹارگٹ کلنگ اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر اس حدِ فاصل کو درست طور پر نہ پہچانا جائے تو ہر احتجاج انتہا پسند تشدد کا آلہ بن سکتا ہے، ایک ایسی تلخ حقیقت جس کی قیمت یہ خطہ بارہا ادا کر چکا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

امام خامنہ‌ای (مدّ ظلّہ العالی) کے آثار کی حفاظت و اشاعت کے دفتر کے میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے  روزنامہ “صدائے ایران” کا دو سو بیالیسویں شمارے کا انٹرنیٹ ورژن شائع کیا گیا ہے۔ یہ شمارہ شہید سرہنگ کیومرث حسینی‌نژاد کی پاک روح کے نام معنون کیا گیا ہے، جو مبارکہ کے ڈپٹی پولیس کمانڈر تھے اور امریکی صہیونی فتنے کے دوران اصفہان کے شہر مبارکہ میں مسلح دہشت گرد عناصر کے چاقو کے وار سے شہید ہوئے۔ اس روزنامے کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ اعتراض اور سماجی بے چینی، دنیا کے تمام ممالک کی سیاسی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ ایران میں بھی گزشتہ دہائیوں کے دوران معاشی، طبقاتی اور سماجی مطالبات کے ساتھ مختلف احتجاجی تحریکیں سامنے آتی رہی ہیں۔ رواں سال بھی بعض تاجروں نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف پُرامن اجتماعات کا آغاز کیا۔ جب تک یہ احتجاجات شہری حقوق کے دائرے میں تھے، قابلِ فہم تھے، لیکن حالات کا رخ بہت تیزی سے بدل گیا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ کسی طبقاتی احتجاج کا فطری تسلسل نہیں تھا۔ یہ احتجاج بتدریج عالمی استعمار کے ایجنٹوں کے ہاتھوں اغوا ہو گیا اور ایک ایسے راستے پر ڈال دیا گیا جو واضح طور پر داعش کے طرزِ عمل سے مشابہ تھا، ایسا طرزِ عمل جو مطالبہ، مکالمہ اور اصلاح کے بجائے تشدد، جسمانی حذف اور خوف پھیلانے پر مبنی ہوتا ہے۔ رہبرِ انقلاب نے حالیہ پر تشدد کو بیان کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا کہ اس فتنہ کی ایک اور خصوصیت تشدد تھا، بالکل داعش کی طرح… یہ بھی ایک نیا داعش ہے اور اس کے کام بھی ویسے ہی ہیں۔ داعش لوگوں کو دین سے دوری کے الزام لگا کر ختم کرتا تھا، موجودہ فتنہ پرور، لوگوں کو دیندار ہونے کی وجہ سے ختم کرتے ہیں، فرق صرف یہی ہے، ورنہ یہ وہی لشکر ہے۔ یہ بھی داعش کی طرح لوگوں کو زندہ جلاتے ہیں، ذرا سوچیں، زندہ انسان کو جلانے کے لیے کتنی درندگی اور بے رحمی درکار ہوتی ہے، انہوں نے آگ لگائی، تباہی کی، سر قلم کیے، وہی سب کچھ کیا جو داعش کرتا تھا۔ تشدد ان کی نمایاں خصوصیت تھی۔ 

داعش کا طریقۂ کار:
داعش نے کبھی بھی سماجی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا بنیادی ہتھیار کھلا اور عریاں تشدد تھا۔ سر قلم کرنا، زندہ انسانوں کو آگ لگانا، سڑکوں پر قتل اور عام شہریوں پر حملے، اس گروہ کی حکمتِ عملی کا حصہ تھے تاکہ خوف کے ذریعے فضا پر قابو پایا جائے اور اپنی مرضی مسلط کی جائے۔ حالیہ فتنہ میں بھی یہی منطق دہرائی گئی۔ تشدد کو بنیادی ذریعہ بنایا گیا۔ زندہ انسانوں کو آگ لگائی گئی، امدادی اور خدماتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، عام شہریوں پر صرف ان کے حلیے، عقیدے یا محض سڑک پر موجود ہونے کی بنا پر حملے کیے گئے۔ جس طرح داعش فوجی اور غیر فوجی میں فرق نہیں کرتا تھا، اسی طرح ان پرتشدد واقعات میں بھی کوئی بھی نشانہ بن سکتا تھا۔

تشدد کی نمائشی نوعیت:
ایک اور نمایاں مماثلت تشدد کی نمائش تھی۔ داعش بخوبی جانتا تھا کہ تشدد کو دیکھا جانا چاہیے، اسی لیے سر قلم کرنے اور جلانے کی ویڈیوز دانستہ پھیلائی جاتی تھیں تاکہ خوف منتقل ہو۔ حالیہ فتنہ میں بھی تشدد کے مناظر کو ریکارڈ کرنے، پھیلانے اور بار بار نشر کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔ مقصد صرف نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ خوف اور عدم استحکام کا تاثر پیدا کرنا تھا۔

لیبل لگا کر تشدد کا جواز بنانا:
داعش اپنے تشدد کو لیبل لگا کر جائز قرار دیتا تھا، مخالف کو ’’مرتد‘‘ یا ’’کافر‘‘ کہہ کر اس کا قتل مباح بنا دیا جاتا تھا۔ حالیہ پرتشدد واقعات میں بھی یہی منطق نظر آئی۔ افراد کو ان کے مذہب، طرزِ لباس یا شرپسندوں کا ساتھ نہ دینے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔ لیبل بدل گئے تھے، مگر تشدد اور غارت گری کی منطق وہی تھی۔

تشدد اور سیاسی مقصد:
داعش کبھی اصلاح کا خواہاں نہیں تھا، اس کا مقصد موجودہ نظم کو توڑ کر ایک کنٹرولڈ افراتفری مسلط کرنا تھا۔ حالیہ فتنہ میں بھی عوامی املاک کی تباہی، بنیادی ڈھانچے کو جلانا اور خدماتی مراکز پر حملے، نہ معاشی مسائل حل کر سکتے تھے اور نہ سماجی اصلاح لا سکتے تھے۔ یہ اقدامات صرف معاشرے کو غیر محفوظ اور فرسودہ کرتے ہیں، بالکل ویسا ہی جیسا داعش نے اپنے زیرِ قبضہ شہروں میں کیا۔ داعش نے عوامی بے چینی سے فائدہ اٹھایا، لیکن وہ خود ایک بڑے منصوبے کی پیداوار تھا۔ حالیہ فتنہ بھی اسی نقشے پر چلا، حقیقی مطالبات پس منظر میں چلے گئے اور تشدد نے ان کی جگہ لے لی۔

تشدد کی عادی سازی یعنی معمول بنانا:
سب سے خطرناک پہلو تشدد کو معمول بنانا ہے۔ داعش نے جرائم کی تکرار کے ذریعے متشدد ہونے اور تشدد کرنے سے متعلق عام حساسیت ختم کر دی۔ حالیہ فتنہ میں بھی تشدد کو ’’جد وجہد کی قیمت‘‘ کے طور پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج مر جاتا ہے اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ کی جانب سے داعش کی حمایت اور اس کی مسلح مدد کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ حالیہ پرتشدد واقعات میں بھی امریکی حکام نے کھلے عام تشدد کی حوصلہ افزائی کی اور فوری مدد کے وعدے کیے۔ نتیجہ سڑکوں پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور وسیع پیمانے پر تباہی کی صورت میں نکلا۔ حقیقی احتجاج اصلاح کا خواہاں ہوتا ہے، جبکہ داعش نما منطق خوف، ٹارگٹ کلنگ اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر اس حدِ فاصل کو درست طور پر نہ پہچانا جائے تو ہر احتجاج انتہا پسند تشدد کا آلہ بن سکتا ہے، ایک ایسی تلخ حقیقت جس کی قیمت یہ خطہ بارہا ادا کر چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پرتشدد واقعات میں بھی تباہی کی حالیہ پر کرنے کی داعش کی تشدد کی کی قیمت تشدد کو مدد کے

پڑھیں:

بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فائل فوٹو

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 1 روپیہ 73 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نیپرا نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی سمیت ملک بھر کےلیے بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

نیپرا اعلامیے کے مطابق سی پی پی اے کی اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں