ایران پر امریکی جارحیت خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہو گی، ثروت اعجاز قادری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف ر پورٹر) چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے امریکی جارحیت کے حوالے سے اپنے جاری میں بیان میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے اور یہ اقدام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے ناپاک عزائم پر عمل درآمد کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے، کیونکہ مشرق وسطی پہلے ہی بدامنی،جنگوں اور سازشوں کا شکار رہا ہے۔کسی نئی محاذ آرائی سے نہ صرف مسلم امہ میں اضطراب بڑھے گا بلکہ عالمی معیشت اور امن بھی شدید متاثر ہوں گے۔ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی خودمختار ملک کو دبانے کی پالیسی ہمیشہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو بھی باہمی اختلافات بھلا کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کسی بیرونی جارحیت کا موثر جواب دیا جا سکے۔چیئرمین پاکستان سنی تحریک نے واضح کیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع ہی پائیدار امن کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات کریں اور کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی،خودمختاری اور مسلم امہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور پاکستان سنی تحریک ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گی جو امت مسلمہ کے خلاف سازش یا جارحیت پر مبنی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔