سلطنتوں کے زوال کی ساختیات
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260220-03-7
سلطنتوں کے عروج نے مورخین کو شاذ و نادر ہی حیران کیا ہے؛ اصل میں ان کا زوال ہے جس نے ہمیشہ گہری اور دیرپا سوچ بچار کو جنم دیا ہے۔ ابنِ خلدون، ایڈورڈ گبن، آرنلڈ ٹوائن بی، اوسوالڈ اسپینگلر، پال کینیڈی، ول ڈیورنٹ اور جدید دور کے ایرک ہوبسبام اور جان میئرشائیمر جیسے مختلف الخیال مفکرین ایک تلخ حقیقت پر متفق ہیں: سلطنتیں عام طور پر صرف اچانک کسی آفت یا بیرونی حملے سے نہیں گرتیں۔ بلکہ وہ اپنے ہی عروج سے پیدا ہونے والے سست اور مجموعی عمل کے ذریعے اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ طاقت پھیلاؤ پیدا کرتی ہے؛ پھیلاؤ ذمے داریوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور یہ پیچیدگی سماجی ہم آہنگی، اداروں اور اخلاقی مقاصد پر بوجھ ڈالتی ہے۔ جیسا کہ ول ڈیورنٹ کا مشہور زمانہ قول ہے: ’’ایک عظیم تہذیب باہر سے تب تک فتح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو اندر سے تباہ نہ کرلے‘‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ محض ایک اخلاقی قول نہیں بلکہ ایک ساختی قانون (structural law) ہے۔
ابنِ خلدون کا ’عصبیت‘ کا تصور: یعنی مشترکہ مسائل سے پیدا ہونے والی سماجی ہم آہنگی، عروج و زوال کی سب سے بہترین وضاحتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب ’مقدمہ‘ میں اس نے استدلال کیا کہ سیاسی اقتدار مضبوط گروہی یکجہتی سے ابھرتا ہے، جو عام طور پر مرکز کے بجائے کناروں (marginals) پر بنتا ہے۔ سلطنتیں تب عروج پاتی ہیں جب یہ متحد گروہ زوال پذیر مراکز کو فتح کرتے ہیں؛ اور وہ تب زوال کا شکار ہوتی ہیں جب خوشحالی نظم وضبط کو ختم کر دیتی ہے، عیاشی سادگی کی جگہ لے لیتی ہے اور حکمران رضامندی کے بجائے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔
ایڈورڈ گبن نے روم کے زوال کو ’شہری اوصاف میں بگاڑ‘ کے تناظر میں دیکھا۔ گبن کے لیے روم کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ ’’بے اعتدال عظمت کا فطری اور ناگزیر نتیجہ‘‘ تھا۔ جمہوری نظم وضبط اور عوامی ذمے داری کے کلچر نے روم کو عروج دیا، لیکن حد سے زیادہ توسیع نے شہریوں کو رعایا اور سپاہیوں کو کرائے کے فوجیوں میں بدل دیا۔ سلطنت کی سرحدیں اس کی مالی اور سماجی استطاعت سے زیادہ تیزی سے پھیلیں، جس نے پال کینیڈی کے ’امپیریل اوور اسٹریچ‘ کے تصور کی پیش گوئی کر دی تھی۔
منگول سلطنت ابنِ خلدون کے چکر کی ایک تیز رفتار مثال پیش کرتی ہے۔ ان کا عروج شاید تاریخ کی شدید ترین ’عصبیت‘ پر مبنی تھا جو سخت کوشی، کارکردگی اور کرشماتی قیادت کے گرد بنی تھی۔ لیکن جیسے ہی فتوحات کا سلسلہ تھما اور انتظامِ سلطنت شروع ہوا، یکجہتی علاقائی تقسیم میں بدل گئی۔ عیاشی نے سادگی کی جگہ لے لی اور سلطنت ایسے حصوں میں بٹ گئی جن کے پاس وہ پرانی سماجی طاقت (عصبیت) موجود نہیں تھی۔
سلطنتِ عثمانیہ یہ ثابت کرتی ہے کہ طویل عمری کا انحصار اداروں کی لچک پر ہوتا ہے۔ عثمانیوں کا عروج سرحدی یکجہتی، مذہبی جواز اور انتظامی جدت کا مجموعہ تھا۔ ان کا زوال تب شروع ہوا جب ادارے جمود کا شکار ہو گئے، اصلاحات نے اشرافیہ کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا اور اقتصادی طاقت بحرِ اوقیانوس کی دنیا (مغرب) کی طرف منتقل ہو گئی۔ ٹوائن بی کی یہ وارننگ کہ ’تہذیبیں قتل نہیں ہوتیں بلکہ خودکشی کرتی ہیں‘ عثمانی تجربے پر صادق آتی ہے۔
پال کینیڈی کا برطانوی سلطنت کا تجزیہ معاشی ڈھانچے کو سامنے لاتا ہے۔ برطانیہ نے بحری برتری اور صنعتی پیداوار کے ذریعے عروج حاصل کیا۔ لیکن سامراجی کامیابی نے ایسی عالمی ذمے داریاں پیدا کر دیں جو برطانیہ کی معاشی صلاحیت سے تجاوز کر گئیں۔ دو عالمی جنگوں اور عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے اخراجات نے اس کی مالی بنیاد کو ہلاکر رکھ دیا۔ جیسا کہ کینیڈی نے خبردار کیا، فوجی طاقت معاشی بنیادوں کے ساتھ ہی اٹھتی اور گرتی ہے۔ برطانیہ کا زوال اہلیت کی کمی نہیں بلکہ حساب کتاب (arithmetic) کی ناکامی تھی۔
ایرک ہوبسبام اس بحث کو سرمایہ داری کے طویل چکروں سے جوڑتا ہے۔ اس کے نزدیک انیسویں صدی کی یورپی سلطنتیں صنعتی سرمایہ داری اور عالمی منڈیوں کا اظہار تھیں۔ ان کا خاتمہ محض اخلاقی زوال سے نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی تھکن سے ہوا جس نے انہیں سہارا دیا تھا۔ بیسویں صدی میں قوم پرستی اور صنعتی جنگوں نے سلطنت کے تصور کو سیاسی طور پر ناجائز اور معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ یہ فریم ورک امریکی طاقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکا سابقہ سلطنتوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کی کوئی باقاعدہ نوآبادیات نہیں ہیں، لیکن اس کی غیر رسمی سلطنت، جو ڈالر کی بالادستی، فوجی اڈوں، عالمی اداروں اور ثقافتی غلبے پر مبنی ہے، کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔ ہوبسبام کے مطابق، امریکی برتری کا معاشی ماڈل 1970 کی دہائی سے تنزلی کا شکار ہے، جس نے امریکی تسلط کی مادی بنیادوں کو خاموشی سے کمزور کر دیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے، امریکی زوال بنیادی طور پر اقدار یا قیادت کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک کمزور معاشی بنیاد پر سامراجی وعدوں کو برقرار رکھنے کا نتیجہ ہے۔
جہاں ہوبسبام تاریخی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، وہاں جان میئرشائیمر طاقت کی سیاست کی سفاکانہ منطق پیش کرتا ہے۔ اپنی کتاب The Tragedy of Great Power Politics میں وہ دلیل دیتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست انارکی (لا قانونیت) کے تابع ہے، جہاں عالمی طاقتیں بقا کے لیے غلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کسی مدمقابل کا ابھرنا لامحالہ غالب طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے۔
میئرشائیمر ایک مکرر سامراجی مرض کو بھی بے نقاب کرتا ہے: زوال پذیر طاقتیں اکثر نتائج کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں اور مدمقابل کے عزم کو کم تر سمجھتی ہیں، جس سے ان کا زوال مزید تیز ہو جاتا ہے۔ تاریخی اور حقیقت پسندانہ تناظر میں امریکی سلطنت کے آثار فکر انگیز ہیں۔ ابنِ خلدون اور فوکویاما کمزور ہوتی ہوئی داخلی یکجہتی کو نوٹ کریں گے؛ گبن بے اعتدال عظمت کے خطرات کی نشاندہی کرے گا؛ کینیڈی حد سے زیادہ سامراجی وعدوں کی طرف اشارہ کرے گا؛ ہوبسبام گرتی ہوئی معاشی بنیادوں پر زور دے گا اور میئرشائیمر خبردارکرے گا کہ طاقت کی منتقلی فطری طور پر خطرناک ہوتی ہے۔ برطانیہ کی طرح، امریکا کے اچانک زوال کا امکان نہیں ہے، لیکن اس کا غیر متنازع برتری برقرار رکھنا بھی مشکل ہے کیونکہ معاشی اور تزویراتی مرکزِ ثقل اب مشرق (ایشیا) کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین کا عروج ان تمام خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو ابتدائی سامراجی عروج سے وابستہ ہیں: معاشی تحرک، تکنیکی ترقی، مضبوط ریاستی صلاحیت اور قوم پرستی پر مبنی جدید ’عصبیت‘۔ تاہم تاریخ احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ جیسے جیسے چین امیر اور پیچیدہ ہوگا، اسے بھی انہی چیلنجز یعنی عدم مساوات، آبادیاتی دباؤ، ادارہ جاتی جمود اور حد سے زیادہ پھیلاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا جو تمام بڑی طاقتوں کے سامنے آئے ہیں۔
تاریخ کا دائمی سبق یہ نہیں ہے کہ زوال ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اپنے اندر ہی اپنے زوال کے بیج چھپائے رکھتی ہے۔ سلطنتیں یکجہتی، لچک اور جامع اداروں کے ذریعے ابھرتی ہیں؛ وہ تب زوال پذیر ہوتی ہیں جب کامیابی ہم آہنگی کو کھا جاتی ہے، ذمے داریاں وسائل سے بڑھ جاتی ہیں اور معاشرے نئے حقائق کا تخلیقی جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ تمام بڑے مفکرین ہمیں یاد دلاتے ہیں، سلطنتیں تاریخ سے فرار حاصل نہیں کرسکتیں۔ وہ تاریخ کے اصولوں کی تابع ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اکثر اپنی بنیادوں کی حدود کو تب پہچانتی ہے جب اصلاح کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اور ٹکراؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
طاہر کامران
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے زیادہ کرتا ہے کا زوال کہ طاقت
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔