Jasarat News:
2026-06-02@23:12:30 GMT

انقلابِ ایران: جدو جہد، قربانیاں، اصلاحات اور عصری چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کا وہ عظیم معجزہ ہے جس نے نہ صرف ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ کیا، بلکہ دنیا کو ایک نیا سیاسی، دینی اور جمہوری نظام ’’انقلاب اسلامی‘‘ کے نام سے عطا کیا۔ اس نظام کی روح خلافت راشدہ کے کامیاب ماڈل سے ملتی ہے۔ امام خمینی کی قیادت میں آنے والا یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ پورے معاشرے کی نظریاتی تطہیر کا نام تھا۔ اس کے گہرے اثرات پورے عالم اسلام اور خصوصاً ملت جعفریہ کے معاشروں پر مرتب ہوئے۔ شاہِ ایران کا دورِ حکومت پرتشدد آمریت، عوامی استحصال، مغربی ثقافت کی اندھی تقلید اور ’ساواک‘ جیسی ظالم انٹیلی جنس ایجنسی کے جبر سے عبارت تھا۔ ملک کے وسائل پر مٹھی بھر طبقہ قابض تھا اور اسلامی شعائر کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ امام خمینی کو 1963 میں جلاوطن کیا گیا۔ وہ پہلے نجف اور بعد میں پیرس میں جلاوطنی جھلتے رہے۔ انہوں نے جلاوطنی کے کٹھن ایام میں بھی ایرانی عوام کی فکری تربیت کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ 1977 میں شاہ کے جبر و مظالم کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا تہران سے آغاز ہوا۔ اور یہ تحریک پورے ملک بھر میں پھیلے گئی احتجاج اور فوجی خونریز تشدد سے آگے بڑھتا رہا۔ 8 ستمبر 1978 بلیک فرائیڈے کو تہران کے ژالہ اسکوائر پر شاہ کی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھن فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور یہاں سے انقلاب کی آگ بھڑک اٹھی اور قربانیوں اور شہادتوں کا سلسلہ آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔

16 جنوری 1979 کو شاہ کو مجبوراً ایران چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ یکم فروری کو تہران ائرپورٹ پر امام خمینی کا والہانہ تاریخ ساز استقبال ہوا۔ عوامی دباؤ میں آ کر 11 فروری کو افواج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح ولولہ انگیز عوامی طاقت نے ٹینکوں اور توپوں کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ حق کے سامنے باطل ٹھیر نہیں سکتا۔ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد امام خمینی نے ملک کو ایک منظم قانونی ڈھانچہ دینے کے لیے درج ذیل بنیادی اقدامات کیے۔

اسلامی جمہوری ریفرنڈم: امام خمینی نے آمریت کے خاتمے کے بعد عوامی رائے کو مقدم رکھا۔ مارچ 1979ء میں ایک ملک گیر ریفرنڈم کرایا گیا اور یہی اسلامی دستور کی بنیاد بنا۔ جس میں 98 فی صد سے زائد عوام نے ’اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ‘ ایران کے حق میں ووٹ دیا۔ اور ثابت کیا کہ عوام اپنی مرضی سے اسلامی نظام زندگی چاہتے ہیں۔

ولایت ِ فقیہ اور رہبر ِ معظم کا عہدہ: نئے آئین میں ’ولایت ِ فقیہ‘ کے نظریے کو شامل کیا گیا۔ اس کے تحت ’رہبر ِ معظم‘ (سپریم لیڈر) کا ایک بااختیار عہدہ تخلیق کیا گیا جو تمام حکومتی شعبوں (عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ) کی نگرانی کرتا ہے تاکہ کوئی بھی فیصلہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ یہ عہدہ تقویٰ، علم اور شجاعت کی بنیاد پر سیاسی نظام کو صحیح سمت فراہم کرتا ہے۔

شورائے نگہبان (Guardian Council): پارلیمنٹ کے فیصلوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنے کے لیے 12 ارکان پر مشتمل ’شورائے نگہبان‘ بنائی گئی۔ اس کونسل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد اسلامی نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ مزید اس کو یقینی بنانا کہ ملک کا کوئی بھی قانون اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ بنے۔

تعلیمی نظام اور میڈیا کی تطہیر: امام خمینی نے تعلیمی نظام میں ’’انقلابِ ثقافتی‘‘ برپا کیا۔ نصاب سے مغربی استعماری نظریات نکال کر اسلامی تاریخ، اخلاقیات اور سائنس کو یکجا کیا گیا۔ میڈیا کو (جو پہلے فحاشی کا گڑھ تھا) دعوتِ دین اور قومی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا گیا۔

خواتین کا مقام اور حجاب: شاہ کے دور میں خواتین کو ’نمائشی اشیاء‘ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ امام خمینی نے خواتین کو عزت و وقار دیا اور معاشرے میں ان کی حفاظت کے لیے حجاب اور اسکارف کو لازمی قرار دیا۔ اس کا مقصد خواتین کو سیاسی و سماجی زندگی سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا تھا تاکہ وہ باحیا رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔ اسی لیے ایران میں خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب انقلابی اسپریڈ کو زندہ رکھنے کے لیے انقلاب کی عوامی نگہبانی کرنے کے لیے ان کو فعال رکھا ہے۔

آج ایران کے اسلامی انقلاب کو 47 برس بیت چکے ہیں۔ اس عرصے میں ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود دفاع، طب اور ایٹمی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، کرپشن کے عنصر کو بھی قابو کیا ہے لیکن موجودہ دور میں کچھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔

نظریاتی گرفت اور نئی نسل: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں، جو انقلاب کی قربانیوں سے واقف نہیں ہیں۔ مغرب کی بھرپور ثقافتی یلغار کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بیرونی پروپیگنڈے کے نتیجے میں اسلامی اقدار، خاص طور پر خواتین کے حجاب اور اسکارف جیسے معاملات پر معاشرتی دباؤ اور بعض حلقوں میں مزاحمت بڑھی ہے۔

معاشی دباؤ اور کرپشن کا چیلنج: اگرچہ انقلاب کا مقصد کرپشن کا خاتمہ تھا، جس کو بڑی حد قابو کیا ہے۔ اس وقت طویل عالمی معاشی پابندیوں، امریکا کی ایران دشمنی، مہنگائی اور بعض اندرونی انتظامی و نظریاتی کمزوریوں کی وجہ سے معاشی مشکلات نے عوام پر مذہبی اور سماجی گرفت بھی کمزور پڑی ہے جس کا مظاہرہ موجودہ عوامی احتجاج میں سامنے آیا ہے۔

عصری چیلنجز اور اصلاح کے لیے تجاویز: 1) امام خمینی کا لگایا ہوا یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، لیکن 47 سال بعد اس نظام کو اپنی جڑوں (اسلامی اصولوں) سے جڑے رہنے کے لیے نئی نسل کی فکری آبیاری اور بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس لیے اسلامی انقلاب کو دوبارا نیا جنم Re-birth دینے اور اصلاح کی نئی لہر اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، شوریٰ نگہبان اور پارلیمنٹ کی مشاورت سے نبی اکرمؐ، صحابہ کرام و اہل بیت المطہرات کی مثالی زندگیوں سے ان کی جدو جہد اور قربانیوں کو جذباتی انداز میں جلا دینے کی ضرورت ہے۔ 2) امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے امام حسین اور شہدائِ کربلا کی شجاعت اور قربانیوں کو مشن بنانا ہوگا۔ اسی لیے ایران اب تک امریکا کی دھمکیوں اور بڑھکیوں کے آگے ڈٹا ہوا ہے۔ اس طرح دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں صرف ایران ایک آزاد اور بیباک ملک ہے۔ 3) مغرب کی نیم برہنہ تہذیب اور خاندانی بربادی کا فہم عوام کو دیناہوگا۔ آج مغرب اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی پر کھڑا ہے ورنہ انکا تمدنی اور اخلاقی نظام بوسیدہ ہوچکا ہے۔ اور گرنے والا ہے۔ 4) تعلیمی نظام اور میڈیا کو از سر نو انقلابی اسپریڈ سے ترتیب دیکر مغربی مرعوبیت سے نکالنا ہے۔ سوشل میڈیا کو مغربی فرمانروائی سے نکال کر خدائی پکار پر لبیک کہنا اور حب الوطنی کے جذبے پر اٹھانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اسی کی ذات پر توکل، سیدنا محمدؐ کا نمونہ عمل اور ان کی ہمہ جہت شخصیت اور امام خمینی کی غیر متزلزل قیادت ایران کا اصلی اثاثہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایران کی نصرت اور مدد فرمائے۔ آمین

محمد حسین محنتی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی انقلاب انقلاب کی کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی