Jasarat News:
2026-07-24@00:57:22 GMT

انقلابِ ایران: جدو جہد، قربانیاں، اصلاحات اور عصری چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کا وہ عظیم معجزہ ہے جس نے نہ صرف ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ کیا، بلکہ دنیا کو ایک نیا سیاسی، دینی اور جمہوری نظام ’’انقلاب اسلامی‘‘ کے نام سے عطا کیا۔ اس نظام کی روح خلافت راشدہ کے کامیاب ماڈل سے ملتی ہے۔ امام خمینی کی قیادت میں آنے والا یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ پورے معاشرے کی نظریاتی تطہیر کا نام تھا۔ اس کے گہرے اثرات پورے عالم اسلام اور خصوصاً ملت جعفریہ کے معاشروں پر مرتب ہوئے۔ شاہِ ایران کا دورِ حکومت پرتشدد آمریت، عوامی استحصال، مغربی ثقافت کی اندھی تقلید اور ’ساواک‘ جیسی ظالم انٹیلی جنس ایجنسی کے جبر سے عبارت تھا۔ ملک کے وسائل پر مٹھی بھر طبقہ قابض تھا اور اسلامی شعائر کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ امام خمینی کو 1963 میں جلاوطن کیا گیا۔ وہ پہلے نجف اور بعد میں پیرس میں جلاوطنی جھلتے رہے۔ انہوں نے جلاوطنی کے کٹھن ایام میں بھی ایرانی عوام کی فکری تربیت کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ 1977 میں شاہ کے جبر و مظالم کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا تہران سے آغاز ہوا۔ اور یہ تحریک پورے ملک بھر میں پھیلے گئی احتجاج اور فوجی خونریز تشدد سے آگے بڑھتا رہا۔ 8 ستمبر 1978 بلیک فرائیڈے کو تہران کے ژالہ اسکوائر پر شاہ کی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھن فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور یہاں سے انقلاب کی آگ بھڑک اٹھی اور قربانیوں اور شہادتوں کا سلسلہ آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔

16 جنوری 1979 کو شاہ کو مجبوراً ایران چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ یکم فروری کو تہران ائرپورٹ پر امام خمینی کا والہانہ تاریخ ساز استقبال ہوا۔ عوامی دباؤ میں آ کر 11 فروری کو افواج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح ولولہ انگیز عوامی طاقت نے ٹینکوں اور توپوں کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ حق کے سامنے باطل ٹھیر نہیں سکتا۔ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد امام خمینی نے ملک کو ایک منظم قانونی ڈھانچہ دینے کے لیے درج ذیل بنیادی اقدامات کیے۔

اسلامی جمہوری ریفرنڈم: امام خمینی نے آمریت کے خاتمے کے بعد عوامی رائے کو مقدم رکھا۔ مارچ 1979ء میں ایک ملک گیر ریفرنڈم کرایا گیا اور یہی اسلامی دستور کی بنیاد بنا۔ جس میں 98 فی صد سے زائد عوام نے ’اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ‘ ایران کے حق میں ووٹ دیا۔ اور ثابت کیا کہ عوام اپنی مرضی سے اسلامی نظام زندگی چاہتے ہیں۔

ولایت ِ فقیہ اور رہبر ِ معظم کا عہدہ: نئے آئین میں ’ولایت ِ فقیہ‘ کے نظریے کو شامل کیا گیا۔ اس کے تحت ’رہبر ِ معظم‘ (سپریم لیڈر) کا ایک بااختیار عہدہ تخلیق کیا گیا جو تمام حکومتی شعبوں (عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ) کی نگرانی کرتا ہے تاکہ کوئی بھی فیصلہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ یہ عہدہ تقویٰ، علم اور شجاعت کی بنیاد پر سیاسی نظام کو صحیح سمت فراہم کرتا ہے۔

شورائے نگہبان (Guardian Council): پارلیمنٹ کے فیصلوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنے کے لیے 12 ارکان پر مشتمل ’شورائے نگہبان‘ بنائی گئی۔ اس کونسل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد اسلامی نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ مزید اس کو یقینی بنانا کہ ملک کا کوئی بھی قانون اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ بنے۔

تعلیمی نظام اور میڈیا کی تطہیر: امام خمینی نے تعلیمی نظام میں ’’انقلابِ ثقافتی‘‘ برپا کیا۔ نصاب سے مغربی استعماری نظریات نکال کر اسلامی تاریخ، اخلاقیات اور سائنس کو یکجا کیا گیا۔ میڈیا کو (جو پہلے فحاشی کا گڑھ تھا) دعوتِ دین اور قومی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا گیا۔

خواتین کا مقام اور حجاب: شاہ کے دور میں خواتین کو ’نمائشی اشیاء‘ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ امام خمینی نے خواتین کو عزت و وقار دیا اور معاشرے میں ان کی حفاظت کے لیے حجاب اور اسکارف کو لازمی قرار دیا۔ اس کا مقصد خواتین کو سیاسی و سماجی زندگی سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا تھا تاکہ وہ باحیا رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔ اسی لیے ایران میں خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب انقلابی اسپریڈ کو زندہ رکھنے کے لیے انقلاب کی عوامی نگہبانی کرنے کے لیے ان کو فعال رکھا ہے۔

آج ایران کے اسلامی انقلاب کو 47 برس بیت چکے ہیں۔ اس عرصے میں ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود دفاع، طب اور ایٹمی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، کرپشن کے عنصر کو بھی قابو کیا ہے لیکن موجودہ دور میں کچھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔

نظریاتی گرفت اور نئی نسل: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں، جو انقلاب کی قربانیوں سے واقف نہیں ہیں۔ مغرب کی بھرپور ثقافتی یلغار کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بیرونی پروپیگنڈے کے نتیجے میں اسلامی اقدار، خاص طور پر خواتین کے حجاب اور اسکارف جیسے معاملات پر معاشرتی دباؤ اور بعض حلقوں میں مزاحمت بڑھی ہے۔

معاشی دباؤ اور کرپشن کا چیلنج: اگرچہ انقلاب کا مقصد کرپشن کا خاتمہ تھا، جس کو بڑی حد قابو کیا ہے۔ اس وقت طویل عالمی معاشی پابندیوں، امریکا کی ایران دشمنی، مہنگائی اور بعض اندرونی انتظامی و نظریاتی کمزوریوں کی وجہ سے معاشی مشکلات نے عوام پر مذہبی اور سماجی گرفت بھی کمزور پڑی ہے جس کا مظاہرہ موجودہ عوامی احتجاج میں سامنے آیا ہے۔

عصری چیلنجز اور اصلاح کے لیے تجاویز: 1) امام خمینی کا لگایا ہوا یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، لیکن 47 سال بعد اس نظام کو اپنی جڑوں (اسلامی اصولوں) سے جڑے رہنے کے لیے نئی نسل کی فکری آبیاری اور بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس لیے اسلامی انقلاب کو دوبارا نیا جنم Re-birth دینے اور اصلاح کی نئی لہر اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، شوریٰ نگہبان اور پارلیمنٹ کی مشاورت سے نبی اکرمؐ، صحابہ کرام و اہل بیت المطہرات کی مثالی زندگیوں سے ان کی جدو جہد اور قربانیوں کو جذباتی انداز میں جلا دینے کی ضرورت ہے۔ 2) امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے امام حسین اور شہدائِ کربلا کی شجاعت اور قربانیوں کو مشن بنانا ہوگا۔ اسی لیے ایران اب تک امریکا کی دھمکیوں اور بڑھکیوں کے آگے ڈٹا ہوا ہے۔ اس طرح دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں صرف ایران ایک آزاد اور بیباک ملک ہے۔ 3) مغرب کی نیم برہنہ تہذیب اور خاندانی بربادی کا فہم عوام کو دیناہوگا۔ آج مغرب اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی پر کھڑا ہے ورنہ انکا تمدنی اور اخلاقی نظام بوسیدہ ہوچکا ہے۔ اور گرنے والا ہے۔ 4) تعلیمی نظام اور میڈیا کو از سر نو انقلابی اسپریڈ سے ترتیب دیکر مغربی مرعوبیت سے نکالنا ہے۔ سوشل میڈیا کو مغربی فرمانروائی سے نکال کر خدائی پکار پر لبیک کہنا اور حب الوطنی کے جذبے پر اٹھانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اسی کی ذات پر توکل، سیدنا محمدؐ کا نمونہ عمل اور ان کی ہمہ جہت شخصیت اور امام خمینی کی غیر متزلزل قیادت ایران کا اصلی اثاثہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایران کی نصرت اور مدد فرمائے۔ آمین

محمد حسین محنتی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی انقلاب انقلاب کی کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی