برطانیہ کا ایران کیخلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکا ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے، جو 2003ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ امریکی حکام نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کا ذکر کیا ہے، جو برطانیہ کے زیرانتظام ہے لیکن امریکا کو اسکے استعمال کیلئے صرف اطلاع دینا ہوتی ہے، اجازت لینا نہیں ہوتی۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ نے ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے انکار کر دیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع مضمون کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکا کو اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے برطانیہ سے برطانوی رائل ایئر فورسز کے بیسز استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے قانونی خدشات کے باعث اس کی منظوری نہیں دی۔
قانونی اور سفارتی پس منظر
برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فیصلے کے مطابق اگر کسی ملک کو "غیر قانونی کارروائی کے حالات" کا علم ہو اور وہ اس میں شریک ہو، تو اسے بھی ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ ہرمر نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی پیشگی حملے میں برطانیہ کا کردار غیر قانونی ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ صرف اپنے اثاثوں یا اتحادیوں کا دفاع کرے۔
امریکی دباؤ اور ڈیاگو گارشیا
امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے، جو 2003ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ امریکی حکام نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کا ذکر کیا ہے، جو برطانیہ کے زیرانتظام ہے لیکن امریکا کو اس کے استعمال کے لیے صرف اطلاع دینا ہوتی ہے، اجازت لینا نہیں ہوتی۔ سر کیئر اسٹارمر کی حکومت نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت برطانیہ ڈیاگو گارشیا سمیت چاگوس جزائر کی خود مختاری ماریشس کو منتقل کرے گا اور امریکا کو 99 سال کے لیے بیس لیز پر دیا جائے گا۔
برطانیہ کا واضح مؤقف
ٹیلی گراف نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی "پیشگی حملے" میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں، تاکہ اگر ایران جوابی کارروائی کرے تو برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکا کو فوجی اڈے کیا ہے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین