Jasarat News:
2026-07-24@06:29:06 GMT

سلطنتوں کے زوال کی ساختیات

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سلطنتوں کے عروج نے مورخین کو شاذ و نادر ہی حیران کیا ہے؛ اصل میں ان کا زوال ہے جس نے ہمیشہ گہری اور دیرپا سوچ بچار کو جنم دیا ہے۔ ابنِ خلدون، ایڈورڈ گبن، آرنلڈ ٹوائن بی، اوسوالڈ اسپینگلر، پال کینیڈی، ول ڈیورنٹ اور جدید دور کے ایرک ہوبسبام اور جان میئرشائیمر جیسے مختلف الخیال مفکرین ایک تلخ حقیقت پر متفق ہیں: سلطنتیں عام طور پر صرف اچانک کسی آفت یا بیرونی حملے سے نہیں گرتیں۔ بلکہ وہ اپنے ہی عروج سے پیدا ہونے والے سست اور مجموعی عمل کے ذریعے اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ طاقت پھیلاؤ پیدا کرتی ہے؛ پھیلاؤ ذمے داریوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور یہ پیچیدگی سماجی ہم آہنگی، اداروں اور اخلاقی مقاصد پر بوجھ ڈالتی ہے۔ جیسا کہ ول ڈیورنٹ کا مشہور زمانہ قول ہے: ’’ایک عظیم تہذیب باہر سے تب تک فتح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو اندر سے تباہ نہ کرلے‘‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ محض ایک اخلاقی قول نہیں بلکہ ایک ساختی قانون (structural law) ہے۔

ابنِ خلدون کا ’عصبیت‘ کا تصور: یعنی مشترکہ مسائل سے پیدا ہونے والی سماجی ہم آہنگی، عروج و زوال کی سب سے بہترین وضاحتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب ’مقدمہ‘ میں اس نے استدلال کیا کہ سیاسی اقتدار مضبوط گروہی یکجہتی سے ابھرتا ہے، جو عام طور پر مرکز کے بجائے کناروں (marginals) پر بنتا ہے۔ سلطنتیں تب عروج پاتی ہیں جب یہ متحد گروہ زوال پذیر مراکز کو فتح کرتے ہیں؛ اور وہ تب زوال کا شکار ہوتی ہیں جب خوشحالی نظم وضبط کو ختم کر دیتی ہے، عیاشی سادگی کی جگہ لے لیتی ہے اور حکمران رضامندی کے بجائے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔

ایڈورڈ گبن نے روم کے زوال کو ’شہری اوصاف میں بگاڑ‘ کے تناظر میں دیکھا۔ گبن کے لیے روم کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ ’’بے اعتدال عظمت کا فطری اور ناگزیر نتیجہ‘‘ تھا۔ جمہوری نظم وضبط اور عوامی ذمے داری کے کلچر نے روم کو عروج دیا، لیکن حد سے زیادہ توسیع نے شہریوں کو رعایا اور سپاہیوں کو کرائے کے فوجیوں میں بدل دیا۔ سلطنت کی سرحدیں اس کی مالی اور سماجی استطاعت سے زیادہ تیزی سے پھیلیں، جس نے پال کینیڈی کے ’امپیریل اوور اسٹریچ‘ کے تصور کی پیش گوئی کر دی تھی۔

منگول سلطنت ابنِ خلدون کے چکر کی ایک تیز رفتار مثال پیش کرتی ہے۔ ان کا عروج شاید تاریخ کی شدید ترین ’عصبیت‘ پر مبنی تھا جو سخت کوشی، کارکردگی اور کرشماتی قیادت کے گرد بنی تھی۔ لیکن جیسے ہی فتوحات کا سلسلہ تھما اور انتظامِ سلطنت شروع ہوا، یکجہتی علاقائی تقسیم میں بدل گئی۔ عیاشی نے سادگی کی جگہ لے لی اور سلطنت ایسے حصوں میں بٹ گئی جن کے پاس وہ پرانی سماجی طاقت (عصبیت) موجود نہیں تھی۔

سلطنتِ عثمانیہ یہ ثابت کرتی ہے کہ طویل عمری کا انحصار اداروں کی لچک پر ہوتا ہے۔ عثمانیوں کا عروج سرحدی یکجہتی، مذہبی جواز اور انتظامی جدت کا مجموعہ تھا۔ ان کا زوال تب شروع ہوا جب ادارے جمود کا شکار ہو گئے، اصلاحات نے اشرافیہ کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا اور اقتصادی طاقت بحرِ اوقیانوس کی دنیا (مغرب) کی طرف منتقل ہو گئی۔ ٹوائن بی کی یہ وارننگ کہ ’تہذیبیں قتل نہیں ہوتیں بلکہ خودکشی کرتی ہیں‘ عثمانی تجربے پر صادق آتی ہے۔

پال کینیڈی کا برطانوی سلطنت کا تجزیہ معاشی ڈھانچے کو سامنے لاتا ہے۔ برطانیہ نے بحری برتری اور صنعتی پیداوار کے ذریعے عروج حاصل کیا۔ لیکن سامراجی کامیابی نے ایسی عالمی ذمے داریاں پیدا کر دیں جو برطانیہ کی معاشی صلاحیت سے تجاوز کر گئیں۔ دو عالمی جنگوں اور عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے اخراجات نے اس کی مالی بنیاد کو ہلاکر رکھ دیا۔ جیسا کہ کینیڈی نے خبردار کیا، فوجی طاقت معاشی بنیادوں کے ساتھ ہی اٹھتی اور گرتی ہے۔ برطانیہ کا زوال اہلیت کی کمی نہیں بلکہ حساب کتاب (arithmetic) کی ناکامی تھی۔

ایرک ہوبسبام اس بحث کو سرمایہ داری کے طویل چکروں سے جوڑتا ہے۔ اس کے نزدیک انیسویں صدی کی یورپی سلطنتیں صنعتی سرمایہ داری اور عالمی منڈیوں کا اظہار تھیں۔ ان کا خاتمہ محض اخلاقی زوال سے نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی تھکن سے ہوا جس نے انہیں سہارا دیا تھا۔ بیسویں صدی میں قوم پرستی اور صنعتی جنگوں نے سلطنت کے تصور کو سیاسی طور پر ناجائز اور معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ یہ فریم ورک امریکی طاقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکا سابقہ سلطنتوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کی کوئی باقاعدہ نوآبادیات نہیں ہیں، لیکن اس کی غیر رسمی سلطنت، جو ڈالر کی بالادستی، فوجی اڈوں، عالمی اداروں اور ثقافتی غلبے پر مبنی ہے، کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔ ہوبسبام کے مطابق، امریکی برتری کا معاشی ماڈل 1970 کی دہائی سے تنزلی کا شکار ہے، جس نے امریکی تسلط کی مادی بنیادوں کو خاموشی سے کمزور کر دیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے، امریکی زوال بنیادی طور پر اقدار یا قیادت کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک کمزور معاشی بنیاد پر سامراجی وعدوں کو برقرار رکھنے کا نتیجہ ہے۔

جہاں ہوبسبام تاریخی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، وہاں جان میئرشائیمر طاقت کی سیاست کی سفاکانہ منطق پیش کرتا ہے۔ اپنی کتاب The Tragedy of Great Power Politics میں وہ دلیل دیتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست انارکی (لا قانونیت) کے تابع ہے، جہاں عالمی طاقتیں بقا کے لیے غلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کسی مدمقابل کا ابھرنا لامحالہ غالب طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے۔

میئرشائیمر ایک مکرر سامراجی مرض کو بھی بے نقاب کرتا ہے: زوال پذیر طاقتیں اکثر نتائج کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں اور مدمقابل کے عزم کو کم تر سمجھتی ہیں، جس سے ان کا زوال مزید تیز ہو جاتا ہے۔ تاریخی اور حقیقت پسندانہ تناظر میں امریکی سلطنت کے آثار فکر انگیز ہیں۔ ابنِ خلدون اور فوکویاما کمزور ہوتی ہوئی داخلی یکجہتی کو نوٹ کریں گے؛ گبن بے اعتدال عظمت کے خطرات کی نشاندہی کرے گا؛ کینیڈی حد سے زیادہ سامراجی وعدوں کی طرف اشارہ کرے گا؛ ہوبسبام گرتی ہوئی معاشی بنیادوں پر زور دے گا اور میئرشائیمر خبردارکرے گا کہ طاقت کی منتقلی فطری طور پر خطرناک ہوتی ہے۔ برطانیہ کی طرح، امریکا کے اچانک زوال کا امکان نہیں ہے، لیکن اس کا غیر متنازع برتری برقرار رکھنا بھی مشکل ہے کیونکہ معاشی اور تزویراتی مرکزِ ثقل اب مشرق (ایشیا) کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین کا عروج ان تمام خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو ابتدائی سامراجی عروج سے وابستہ ہیں: معاشی تحرک، تکنیکی ترقی، مضبوط ریاستی صلاحیت اور قوم پرستی پر مبنی جدید ’عصبیت‘۔ تاہم تاریخ احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ جیسے جیسے چین امیر اور پیچیدہ ہوگا، اسے بھی انہی چیلنجز یعنی عدم مساوات، آبادیاتی دباؤ، ادارہ جاتی جمود اور حد سے زیادہ پھیلاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا جو تمام بڑی طاقتوں کے سامنے آئے ہیں۔

تاریخ کا دائمی سبق یہ نہیں ہے کہ زوال ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اپنے اندر ہی اپنے زوال کے بیج چھپائے رکھتی ہے۔ سلطنتیں یکجہتی، لچک اور جامع اداروں کے ذریعے ابھرتی ہیں؛ وہ تب زوال پذیر ہوتی ہیں جب کامیابی ہم آہنگی کو کھا جاتی ہے، ذمے داریاں وسائل سے بڑھ جاتی ہیں اور معاشرے نئے حقائق کا تخلیقی جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ تمام بڑے مفکرین ہمیں یاد دلاتے ہیں، سلطنتیں تاریخ سے فرار حاصل نہیں کرسکتیں۔ وہ تاریخ کے اصولوں کی تابع ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اکثر اپنی بنیادوں کی حدود کو تب پہچانتی ہے جب اصلاح کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اور ٹکراؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔

طاہر کامران سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے زیادہ کرتا ہے کا زوال کہ طاقت

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار