data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ دکانوں کو ایک ہفتے کے اندر ایف بی آرکے نظام سے منسلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے تحت پوائنٹ آف سیلز مشین سے وابستہ تمام کاروبار ایف بی آر کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے، ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور کلبز پر بھی اس کا اطلاق ہوگا جبکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کوریئر اور کارگو سروسز بھی لازمی منسلک کرنا ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، اسلمنگ سینٹرزاور بیوٹی کلینکس لازمی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوں گے، ہئیر ٹرانسپلانٹ، پرائیویٹ کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنزکے بزنس بھی منسلک کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیبارٹریز، جانوروں کے ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک سینٹرز، ایکسرے سینٹرز ، پرائیویٹ اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس، ہیلتھ کیئر سروسز، ہیلتھ کلبز،سوئمنگ پولز، فٹنس کلبز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سیمنسلک ہونا پڑے گا۔ ایف بی آر کے مطابق کراچی جمخانہ،رائل پام، چناب کلب،اسلام آباد کلب،لاہور جمخانہ کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک کیا جائے گا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز،کاسٹ اینڈ مینجمنٹ کی خدمات دینے والوں کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماہانہ 1000 روپے فیس والے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس کی شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سے منسلک ہونا بنیادی شرط ہوگی، ٹیکس نظام سے منسلک کاروبار پوائنٹ آف سیلز مشین لگانے کے پابند ہوں گے۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیکس نظام سے منسلک کو بھی ٹیکس نظام منسلک ہونا ایف بی ا ر

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق