دکان‘ ہوٹل‘ کلب‘اسپتال ‘ بیوٹی پارلرز سمیت مختلف کاروبار کو ایف بی آر نظام سے منسلک کرنا لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ دکانوں کو ایک ہفتے کے اندر ایف بی آرکے نظام سے منسلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے تحت پوائنٹ آف سیلز مشین سے وابستہ تمام کاروبار ایف بی آر کے ساتھ منسلک کیے جائیں گے، ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور کلبز پر بھی اس کا اطلاق ہوگا جبکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کوریئر اور کارگو سروسز بھی لازمی منسلک کرنا ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، اسلمنگ سینٹرزاور بیوٹی کلینکس لازمی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوں گے، ہئیر ٹرانسپلانٹ، پرائیویٹ کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنزکے بزنس بھی منسلک کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لیبارٹریز، جانوروں کے ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک سینٹرز، ایکسرے سینٹرز ، پرائیویٹ اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس، ہیلتھ کیئر سروسز، ہیلتھ کلبز،سوئمنگ پولز، فٹنس کلبز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سیمنسلک ہونا پڑے گا۔ ایف بی آر کے مطابق کراچی جمخانہ،رائل پام، چناب کلب،اسلام آباد کلب،لاہور جمخانہ کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک کیا جائے گا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز،کاسٹ اینڈ مینجمنٹ کی خدمات دینے والوں کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماہانہ 1000 روپے فیس والے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہونا پڑے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس کی شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سے منسلک ہونا بنیادی شرط ہوگی، ٹیکس نظام سے منسلک کاروبار پوائنٹ آف سیلز مشین لگانے کے پابند ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکس نظام سے منسلک کو بھی ٹیکس نظام منسلک ہونا ایف بی ا ر
پڑھیں:
میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل میرب علی نے حال ہی میں اپنی صحت سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں انگلی کے مسئلے کے باعث سرجری کروانا پڑی، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج رہیں۔
میرب علی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو اپنی طبی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اداکارہ کے مطابق ان کی ایک انگلی میں حرکت محدود ہو گئی تھی اور وہ بار بار لاک ہو جاتی تھی، جس کے باعث روزمرہ امور انجام دینا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ماہر امراضِ جوڑ (رہیومیٹولوجسٹ) اور نیورولوجسٹ نے انہیں صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں آرتھوپیڈک سرجن نے مکمل معائنے کے بعد سرجری تجویز کی۔
میرب علی کے مطابق انہیں توقع تھی کہ یہ ایک معمولی اور مختصر نوعیت کا آپریشن ہوگا، لیکن سرجری ان کی توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہوئی۔ یہ آپریشن کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجام دیا گیا، جہاں انہوں نے علاج کے دوران اپنی ایک ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
View this post on Instagramاداکارہ نے بتایا کہ سرجری کے بعد اب وہ بتدریج صحت یاب ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے دوستوں، ساتھی فنکاروں اور مداحوں کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
شوبز شخصیات میں مایا خان، درفشاں سلیم، ثناء فہد اور رابعہ کلثوم سمیت متعدد فنکاروں نے میرب علی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اداکارہ کو آرام کرنے اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ انگلی پر مزید دباؤ نہ پڑے۔
بعض مداحوں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی طبی شکایت بعض اوقات کھیلوں یا ہاتھوں کے مسلسل استعمال کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اداکارہ کی جانب سے صحت سے متعلق یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد مداح ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔