—فائل فوٹو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت 5 اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف آپریشن کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس اداروں کے 2 ہزار سے زائد اہلکاروں نے 5 اضلاع اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں آپریشن میں حصہ لیا۔

مساجد کی سیکیورٹی کے ساتھ سرچ مہم جاری ہے اس کے ساتھ رمضان کے دوران 449 عبادت گاہوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں سخت نگرانی جاری ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی، دستاویزاتی جانچ اور مرحلہ وار قانونی کارروائی جاری رہے گی جبکہ قانون کے مطابق قیام رکھنے والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی تاکہ غیر رجسٹرڈ افغان شہری دستاویزات درست کریں یا قانونی کارروائی کا سامنا کریں۔

افغانیوں کو دکان و گھر کرائے پر دینے والے مالکان پر 79 مقدمات درج

راولپنڈی ریجن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

جہلم کے علاقے دینہ میں رات گئے مشترکہ کومبنگ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 25 گھروں کی تلاشی، 62 افراد کی چیکنگ کی گئی اور پروفائلنگ، غیر قانونی افغان شہریوں کےخلاف سخت ویری فکیشن کی گئی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کےعلاقے ترنول میں 175 اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا جس میں درجنوں مقامات کی چھان بین کی گئی۔

راولپنڈی میں ڈھوک کشمیریاں اور اطراف میں 110 اہلکار نے آپریشن کیا جس میں سرچ اور رہائشی تفصیلات کی جانچ کی گئی۔

اٹک کے 5 مقامات پر 747 اہلکاروں نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا جس میں غیر قانونی افغان شہریوں کی اسکریننگ کی گئی۔

چکوال میں47 گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی گئی جس میں، 98 افراد کی دستاویزات چیک اور 14 مشتبہ افراد کی جانچ کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: افغان شہریوں مقیم افغان کی گئی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری