اسلام آباد سمیت 5 اضلاع میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کیخلاف آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت 5 اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف آپریشن کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس اداروں کے 2 ہزار سے زائد اہلکاروں نے 5 اضلاع اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں آپریشن میں حصہ لیا۔
مساجد کی سیکیورٹی کے ساتھ سرچ مہم جاری ہے اس کے ساتھ رمضان کے دوران 449 عبادت گاہوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں سخت نگرانی جاری ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی، دستاویزاتی جانچ اور مرحلہ وار قانونی کارروائی جاری رہے گی جبکہ قانون کے مطابق قیام رکھنے والوں کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی تاکہ غیر رجسٹرڈ افغان شہری دستاویزات درست کریں یا قانونی کارروائی کا سامنا کریں۔
راولپنڈی ریجن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
جہلم کے علاقے دینہ میں رات گئے مشترکہ کومبنگ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 25 گھروں کی تلاشی، 62 افراد کی چیکنگ کی گئی اور پروفائلنگ، غیر قانونی افغان شہریوں کےخلاف سخت ویری فکیشن کی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کےعلاقے ترنول میں 175 اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا جس میں درجنوں مقامات کی چھان بین کی گئی۔
راولپنڈی میں ڈھوک کشمیریاں اور اطراف میں 110 اہلکار نے آپریشن کیا جس میں سرچ اور رہائشی تفصیلات کی جانچ کی گئی۔
اٹک کے 5 مقامات پر 747 اہلکاروں نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا جس میں غیر قانونی افغان شہریوں کی اسکریننگ کی گئی۔
چکوال میں47 گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی گئی جس میں، 98 افراد کی دستاویزات چیک اور 14 مشتبہ افراد کی جانچ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں مقیم افغان کی گئی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز