دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ایک امریکی ماہر قلب نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے لوگ دل کی بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ وہ صرف شدید اور واضح علامات کے انتظار میں رہتے ہیں، جو عموماً ظاہر نہیں ہوتیں۔ ماہر قلب، ڈاکٹر سنجے بھوجراج، جو دو دہائیوں سے زائد تجربے کے حامل ہیں، کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دل کے دورے اچانک سینے میں درد سے شروع نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر بھوجراج نے 18 فروری کو انسٹاگرام پر بتایا کہ دل کے دوروں کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ بغیر کسی وارننگ کے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ صرف معمول کے چیک اپ پر انحصار کرتے ہیں، جو صرف ٹیسٹ کے نتائج پر ہلکا سا جائزہ لیتے ہیں اور تفصیلی تجزیہ نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: اداکارہ شیفالی جریوالا کو دل کا دورہ کیوں پڑا؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
انہوں نے لکھا کہ میں نے کافی مریضوں کا علاج کیا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ دل کی بیماری اچانک ظاہر ہوتی ہے، بلکہ یہ خاموشی سے بڑھتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے خطرے سے تب واقف ہوتے ہیں جب کوئی واقعہ ان پر مسلط ہو جائے۔ اس لیے میری رائے میں روک تھام کا مطلب یہ نہیں کہ علامات کے انتظار میں بیٹھنا، بلکہ اپنے خطرات کو اس سے پہلے سمجھنا ہے کہ بحران پیدا ہو۔
ڈاکٹر بھوجراج نے کہا کہ مریضوں کو کولیسٹرول کے نمونے، سوزش کے اشاریے اور بلڈ پریشر کے طویل المدتی رجحانات کی تفصیل دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے دل کی صحت کو 5، 10 یا 15 سال بعد کے لیے سمجھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف ٹیسٹ آرڈر کرنا یا چارٹ دیکھ لینا کافی نہیں۔ بلکہ واقعی بیٹھ کر یہ سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے کولیسٹرول کے نمونے، سوزش کے اشاریے اور بلڈ پریشر کے رجحانات آپ کے مستقبل میں کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔
برسوں کی ایمرجنسی کیسز کے تجربے کے بعد، ڈاکٹر بھوجراج نے اپنا طریقہ علاج بدل دیا ہے۔ وہ اب مریضوں کی ذاتی جسمانی اور طبی تاریخ کے مطابق خطرات کی نشاندہی اور روک تھام پر توجہ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سشمیتا سین شوٹنگ کے لیے جے پور پہنچیں تو دل کا دورہ پڑا،ساتھی اداکار کا انکشاف
ان کا آخری مشورہ تھا کہ اپنے جسم کے شور مچانے کا انتظار مت کریں۔ جو لوگ صحت مند محسوس کرتے ہیں مگر اپنے اندرونی حالات کے بارے میں غیر یقینی ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے خطرات کو پہلے سے پہچانیں۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی طبی معلومات فراہم کرتی ہیں اور کسی بھی صورت میں کسی ماہر طبی رائے کا متبادل نہیں ہیں۔ ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دل کا دورہ ڈاکٹر بھوجراج سب سے بڑا غلط فہمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دل کا دورہ ڈاکٹر بھوجراج سب سے بڑا غلط فہمی ڈاکٹر بھوجراج
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔