جنگ کا خطرہ: پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وارسا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی باعث اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے بعد پولینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہے۔ وارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔ پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام مختلف فوجی اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور عسکری تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ خطے میں تعینات اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں بھی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محفوظ پناہ گاہوں اور بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں حالات کسی بھی وقت سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔