’میں نازیبا کپڑے نہیں پہنتی‘، رمضان ٹرانسمیشن میں ساڑھی پر تنقید کے بعد جویریہ سعود کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان جویریہ سعود نے رمضان کے لائیو ٹرانسمیشن کے دوران اپنے حالیہ فیشن شو کے لباس پر تنقید کے جواب میں وضاحت پیش کی ہے۔
لائیو کال کے دوران ان سے کالر نے سوال کیا گیا کہ برطانیہ میں منعقدہ فیشن شو کے دوران انہوں نے ساڑھی پہنی جبکہ انہیں معلوم تھا کہ رمضان ٹرانسمیشن اور مولانا آزاد جمیل کے ساتھ پروگرام میں شرکت کرنی ہے تو اس موقع پر ایسا لباس پہننے کی کیا وجہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے متعلق بیان پر جویریہ عباسی کی تنقید، صبا قمر کا سخت ردعمل
ساتھ ہی انہوں نے مولانا آزاد جمیل کو مخاطب کر کے کہا کہ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اب جویریہ ایسا نہ کریں۔ جویریہ سعود نے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر وہ پہلے بھی سوشل میڈیا پر وضاحت دے چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھی کے ساتھ پورا باڈی سوٹ بھی پہنا ہوا تھا اور جہاں شو ہو رہا تھا وہاں درجہ حرارت مائنس ون تھا جس کے باعث ہر حاضر شخص نے تھرمل اور باڈی سوٹ پہنا ہوا تھا۔
ویسے مجھے کوئی اعتراض نہیں جس کا جو جی چاہیے پہنے لیکن اعتراض اس ہیپوکریسی پر ہے۔۔۔
رمضان آتا ہے تو وہی چہرے اور شخصیات دوپٹے چادریں اوڑھ کر ایمان بانٹنا شروع کر دیتے ہیں ???? pic.
— Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر (@SaddiaMazhar) February 19, 2026
اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ عام روٹین میں بھی باڈی سوٹ پہن کر رکھتی ہیں تاکہ ڈیزائنرز کے کپڑے محفوظ رہیں اور ہایجین کا بھی خیال رکھا جا سکے۔ جویریہ نے کہا ’اب ناظرین اور دیگر لوگوں کی پریشانیاں دور ہو گئی ہوں گی کیونکہ میں نازیبا کپڑے نہیں پہنتی‘۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس وضاحت پر مختلف ردعمل دیا۔ ایک صارف نے کہا کہ انہیں جویریہ کے لباس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ اس ہائپوکریسی پر سوال اٹھاتی ہیں کہ رمضان کے دوران کچھ شخصیات اچانک دوپٹے اور چادریں اوڑھ کر ایمان بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے اگلے دن سعود نے کہا ’میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے‘، جویریہ سعود کا انکشاف
واضح رہے کہ حال ہی میں جویریہ سعود نے پاکستان فیشن ویک (پی ایف ڈبلیو) میں ریمپ پر واک کی تھی اس موقع پر انہوں نے اپنے ملبوسات کے کلیکشن کی نمائش کی اور اپنی بیٹی جنت اور فلم اسٹار ثناء نواز کے ہمراہ ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں۔ اس موقع پر انہوں نے سلور ہاف بلاؤز اور لانگ جیکٹ کے ساتھ سیاہ ساڑھی زیب تن کی تھی جس پر بعض مداحوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
View this post on Instagram
A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان فیشن ویک جویریہ سعود جویریہ سعود ساڑھی جویریہ سعود لباس رمضان ٹرانسمیشن ریمپ واک ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان فیشن ویک جویریہ سعود جویریہ سعود لباس ریمپ واک ویڈیو وائرل جویریہ سعود کے دوران انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔