data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلگام فالس فلیگ کے بعد سیکورٹی صورتحال ایک بار پھر مرکزِ بحث بن گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق علاقے میں اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور فورسز کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں مختلف حلقے ان اقدامات کے مقاصد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے مزید 43 چوکیاں قائم کی ہیں جن میں سے 26 کشمیر ڈویژن اور 17 جموں ڈویژن میں بنائی گئی ہیں۔ ہر چوکی پر تقریباً 25 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ دی ٹائمزآف انڈیا کے مطابق سنٹرل ریزرو فورس نے ان تنصیبات کے لیے خصوصی سازوسامان بھی حاصل کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اقدامات کو حکومت خطے میں استحکام کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین اسے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی حکمت عملی سے جوڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پہلے ہی حساس علاقہ ہے جہاں سیاسی حقوق اور آزادی اظہار کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری رہتی ہے، لہٰذا کسی بھی اضافی اقدام کے اثرات مقامی آبادی پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر سیکورٹی اور سیاسی عمل میں توازن قائم نہ رکھا گیا تو اس سے داخلی تقسیم مزید بڑھ سکتی ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ سخت نگرانی اور اضافی چوکیاں شہری آزادیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا