جڑواں شہروں میں پولیس اور رینجرز کا گھر گھر تلاشی آپریشن، درجنوں افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے علاقے ڈھوک کشمیریاں اور اس کے اطراف، تھانہ صادق آباد کی حدود میں بھی مشترکہ سرچ آپریشن کیا گیا، کارروائی کے دوران 120 افراد اور 50 گھروں کی چیکنگ کی گئی جبکہ 15 گاڑیوں اور 10 موٹر سائیکلوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی، لیڈی پولیس اور انٹیلیجنس اداروں نے مشترکہ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں گھر گھر تلاشی اور شناختی جانچ کا عمل مکمل کر لیا۔ اسلام آباد کے علاقے ترنول میں 165 گھروں کی تلاشی لی گئی جبکہ 570 افراد کی شناختی جانچ کی گئی، اس دوران مجموعی طور پر 74 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چیکنگ بھی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران 51 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں 16 افغان شہری اور 35 مشتبہ افراد شامل ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی میں بھی مشترکہ آپریشن کے دوران 120 افراد اور 50 گھروں کی چیکنگ کی گئی، رہائشی دستاویزات کی جانچ کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی رہائش کو روکا جا سکے۔ راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے علاقے ڈھوک کشمیریاں اور اس کے اطراف، تھانہ صادق آباد کی حدود میں بھی مشترکہ سرچ آپریشن کیا گیا، کارروائی کے دوران 120 افراد اور 50 گھروں کی چیکنگ کی گئی جبکہ 15 گاڑیوں اور 10 موٹر سائیکلوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ پولیس کے مطابق 11 افراد بغیر کرایہ نامہ کے رہائش پذیر پائے گئے جنہیں رجسٹریشن کی ہدایت اور وارننگ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، رہائشی دستاویزات کی جانچ کے عمل کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کا مقصد جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے دوران گھروں کی کی چیکنگ کی گئی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔