ثانیہ اشفاق نے سابق شوہر عماد وسیم کی دھمکیوں والی واٹس ایپ چیٹس شیئر کردیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم کی جانب سے بھیجے گئے واٹس ایپ میسجز کے اسکرین شاٹس شیئر کردیے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران ثانیہ اشفاق نے انسٹاگرام پر متعدد پیغامات شیئر کیے جن میں انہوں نے 37 سالہ کرکٹر پر بے وفائی، بچوں کو نظر انداز کرنے اور اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ثانیہ اشفاق نے جولائی 2025 کی واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں، مبینہ پیغامات میں کرکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ان (ثانیہ) سے یا اہلخانہ سے رابطہ کیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔اسکرین شاٹس کے مطابق ثانیہ جو اُس وقت حاملہ تھیں، انہوں نےعماد وسیم سے بچے کی پیدائش کے موقع پر موجود رہنے کی درخواست کی تھی تاہم کرکٹر نے سخت جواب دیتے ہوئے شرائط پر عمل نہ کرنے پر مبینہ طور پر پولیس میں شکایت کی دھمکی دی تھی۔واضح رہے کہ ثانیہ اشفاق نے گزشتہ روز ایک ویڈیو پیغام بھی شیئر کیا تھا جس میں انہوں نے عماد وسیم پر دسمبر 2023 میں اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں قاتل قرار دیا تھا، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ میرے پاس اپنے الزامات کے ثبوت بھی موجود ہیں۔انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط اور اقدار کے مطابق کارروائی کریں۔مزید برآں ثانیہ اشفاق نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے اپیل کی تھی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کریں۔خیال رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کی شادی 2019 میں ہوئی تھی جب کہ ان کی طلاق دسمبر 2025 میں ہوئی، عماد وسیم جو پاکستان کی جانب سے 55 ون ڈے اور 75 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں، اپنی پہلی شادی کے خاتمے کو زندگی کا مشکل ترین باب قرار دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزرا جب ایک شادی کامیاب نہ ہو سکی، اس باب نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں دیں، میرے بچے، میں ان سے لفظوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ثانیہ اشفاق نے انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔