پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین نے عماد بٹ پر لگی 2 سال کی پابندی ہٹادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستان ہاکی فیڈریشن یعنی پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی کے استعفے کے بعد سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی نے ایڈہاک صدر کا چارج سنبھال لیا ہے۔
چارج سنبھالنے کے بعد محی الدین احمد وانی نے کہا کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے، اس لیے کیمپ آج یا کل شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کپتان عماد شکیل بٹ پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے اور ہاکی کی بحالی و فروغ کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
محی الدین وانی کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کی ازسرنو تشکیل، کوچنگ اور تربیتی نظام میں بہتری اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف کھیل پر توجہ دیں، انتظامی امور فیڈریشن سنبھالے گی، اور تمام فیصلے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
پی ایچ ایف کے پیٹرن اِن چیف وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بگٹی کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کرتے ہوئے فیڈریشن میں مبینہ بدانتظامی کا نوٹس بھی لیا تھا۔
طارق بگٹی نے استعفیٰ دیتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ پر بدانتظامی اور فنڈز کی بروقت عدم فراہمی کا الزام عائد کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کے لیے سفری اور لاجسٹک اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر کی گئی۔
آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کی رقم وقت پر ادا نہ ہونے سے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور انہیں بتایا گیا کہ ادائیگی کا عمل 2 ماہ تک لے سکتا ہے۔
بگٹی نے وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی اپیل بھی کی۔
مزید پڑھیں:
طارق بگٹی نے قومی کپتان عماد شکیل بٹ پر ساتھی کھلاڑیوں کو دھمکانے اور فیڈریشن کے خلاف مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر 2 سال کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنااللہ نے بتایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ 3 رکنی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
دوسری جانب عماد شکیل بٹ نے ٹیم مینجمنٹ اور پی ایچ ایف پر بدانتظامی اور ذہنی ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ دورہ کے دوران کھلاڑیوں سے ایسے کام کرائے گئے جو کسی پیشہ ور ایتھلیٹ کے شایانِ شان نہیں۔
مزید پڑھیں:
ان کے مطابق کھلاڑیوں سے کچن صاف کروانے، برتن دھلوانے، کپڑے خود دھونے اور واش رومز صاف کروانے جیسے کام لیے گئے، جس کے بعد انہیں ٹریننگ اور میچز کھیلنے جانا پڑتا تھا۔
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے لاہور میں قومی ہاکی ٹیم سے ملاقات کی اور پرو ہاکی لیگ کے دوران مبینہ ناروا سلوک پر کھلاڑیوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر سے قبل مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
محسن نقوی نے فوری طور پر ہوائی ٹکٹ، کھیلوں کا سامان اور ہوٹل رہائش کا انتظام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جمعہ سے ٹریننگ کیمپ لگانے کا حکم دیا۔
انہوں نے زخمی کھلاڑیوں کو پی سی بی کی نگرانی میں فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حالیہ قومی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہنے پر ہر کھلاڑی کو دس لاکھ روپے کا چیک بھی دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکوائری کمیٹی پاکستان اسپورٹس بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان ہاکی فیڈریشن پرو ہاکی لیگ پی ایچ ایف رانا ثنااللہ عماد شکیل بٹ محسن نقوی محی الدین وانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکوائری کمیٹی پاکستان اسپورٹس بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان ہاکی فیڈریشن پرو ہاکی لیگ پی ایچ ایف رانا ثنااللہ عماد شکیل بٹ محسن نقوی محی الدین وانی پاکستان ہاکی فیڈریشن عماد شکیل بٹ پی ایچ ایف محی الدین انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔