ٹینشن، گالم گلوچ کا ماحول ختم کرکے سب سیاسی رہنما ڈائیلاگ کی طرف آئیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کا حق ہے کہ ذاتی معالج تک رسائی دی جائے، ملک میں ٹینشن گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔
یہ بات نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر پوری قوم پریشانی کا شکار ہے، آپ عمران خان کے معالج کو رسائی دیں وہ جیل سے بتا دیں ان کے ساتھ کس کو ہونا ہے، یہ حق ہے ان کا انہیں ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی حاصل ہو، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کس کو ہونا چاہیے کس کو نہیں یہ فیصلے کا حق بھی عمران خان کو کرنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کا سیاسی درجہ حرارت نارمل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پوری کوشش کی مگر انقلاب نہ آسکا، پاکستان کی معیشت کے جو حالات ہیں اس کے سبب 125 عالمی کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں، آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عوام کی کمر ٹوٹ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، حکومت اور عوام کے درمیان اس وقت بہت زیادہ فاصلہ ہے ملک میں کوئی مثبت سیاسی ڈویلپمنٹ نہیں ہورہی، اس وقت سیاست کو کسی بڑی تحریک کی ضرورت نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک ساتھ مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
زرداری نے نازیبا بیان دیا جس میں خواتین کو حقیر گردانا، محمد علی درانی
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ صدر مملکت نے ایک نازیبا بیان دیا، اپنے بیان میں انہوں نے خواتین کو حقیر گردانا، یہ ناپسندیدہ بیان تھا، صدر مملکت کو لوگوں کو جوڑنا چاہیے، صدر مملکت کو اپنا بیان واپس لینا چاہیے، صدر مملکت عمران خان کے خلاف غیر ضروری بیان بازی کر رہے ہیں، اس وقت واحد حل قومی حکومت کا قیام ہے۔
بیرسٹر محمد سیف نے کہا کہ ملک میں سیاسی صورتحال میں مفاہمت کی ضرورت ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کی سیاست میں مثبت کردار ادا کررہی ہے، ملک کے آدھے سے زیادہ حصے کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستان میں اس وقت ایک متحد قوم کی ضرورت ہے، ملک میں ٹینشن گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی صدر مملکت نے کہا کہ کی ضرورت ملک میں
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔