پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی، اعداد و شمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی، اعداد و شمار جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ملک میں 7سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری کردیے گئے، پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29.9فیصد ہوگئی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے بعد غربت کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے تھے، گزشتہ 7 سال میں چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا۔ ہم نے پہلی بار کثیر الجہتی غربت کے اعدادوشمار پیش کیے۔احسن اقبال نے کہا کہ شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.
انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم بہت کم ہوگیا، میکرواکنامک استحکام کیلئےآئی ایم ایف پروگرام نافذ کرنا پڑا، روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی نے لوگوں کو بری طرح کچلا، کسی ملک کی ترقی میں غربت کے تخمینوں کا اہم کردار ہوتا ہے، غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔ معاشی ناہمواری ختم کرنا اہم ہدف ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پالیسی کے عدم تسلسل، کورونا وبا، آئی ایم ایف پروگراموں کو غربت میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔ رپورٹ اجرا کے موقع پر خطاب میں کہا کہاڑان پاکستان کے تحت ڈسپلن کے ساتھ ایجنڈا فالو کرنا پڑے گا۔اس کے بغیر غربت ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایتھوپین سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ترکمانستان کے سفیر سے ملاقاتِ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ایتھوپین سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کی ترکمانستان کے سفیر سے ملاقاتِ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیپیٹل ہسپتال کا علی بابا میڈیکل اے آئی کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط، کیپیٹل ہسپتال میں اے آئی پر مبنی ریڈیولاجی اسکریننگ متعارف محمد عارف کیلیفورنیا گورنر کے الیکشن میں مرکزی ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر سامنے آئے اسلام آباد: تاجکستان کے سفیر اور پاکستان کے وزارتِ تجارت کے خصوصی سیکریٹری کی اہم ملاقات سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ برطانیہ کا ایران پر حملے کیلئے امریکا کو اپنے فوجی اڈے دینے سے انکارCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیصد ہوگئی بڑھ کر
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں