ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے  بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان سے کہا ہے کہ وہ داخلی پارٹی اصلاحات کو سب سے زیادہ اہمیت دیں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو عوام میں وسیع پیمانے پر مایوسی پھیل سکتی ہے۔

جمعہ کو جاری بیان میں ٹی آئی بی نے بنگلہ دیش کے وزیر ٹرانسپورٹ کے حالیہ بیانات پر ‘گہری تشویش اور مذمت’ کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے سڑکوں پر وصولی کو ایک قسم کی طے شدہ لین دین قرار دیا تھا۔ اینٹی کرپشن واچ ڈاگ نے کہا کہ ایسے بیانات سنگین مجرمانہ عمل کو جائز قرار دینے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتوں کی انتخابات میں بڑی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟

ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار الزمان نے کہا کہ وزیر کا یہ بیان حکومت کی حالیہ اینٹی کرپشن پالیسی کے منافی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ بیان نئی انتظامیہ کی کرپشن روکنے کے اقدامات کے صرف 48 گھنٹے بعد سامنے آیا۔

ٹی آئی بی نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں جڑ پکڑنے والی وصولی کو مثبت انداز میں پیش کرنا غیر اخلاقی اور باہمی ساز باز پر مبنی عمل کو جائز قرار دینے کی کوشش کے مترادف ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ اس غیر قانونی سرگرمی کے سیدھے متاثرین ٹرانسپورٹ ورکرز، کاروباری حضرات اور عام شہری ہیں۔

ڈاکٹر افتخار الزمان نے خبردار کیا کہ ‘سمجھوتے’ کے بہانے وصولی کو قبول کرنا دیگر عوامی شعبوں جیسے گاڑیوں کے ضابطے، صحت، تعلیم، قانون نافذ کرنے والے ادارے، بینکنگ اور پبلک پروکیورمنٹ میں خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹولپ صدیق کو بنگلہ دیش میں کرپشن کیس میں سزائیں

ٹی آئی بی نے حکومت کی اعلی قیادت پر زور دیا کہ وہ وزیر کے بیانات کی باضابطہ طور پر تردید کرے اور مناسب جوابدہی یقینی بنائے۔ تنظیم نے یاد دلایا کہ 2012 میں بھی اسی طرح کی وضاحت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ٹی آئی بی نے وزیر اعظم طارق رحمان سے براہِ راست کہا کہ عوام کی بڑھتی توقعات کو مؤثر اقدامات کے ساتھ پورا کیا جائے۔ تنظیم نے پارٹی کی مکمل صفائی اور اصلاحات پر زور دیا تاکہ حکومتی پارٹی کے بعض حصے خود تخریبی کے راستے پر نہ چل پڑیں۔

ٹی آئی بی نے خبردار کیا کہ اصلاحات کی ناکامی شہریوں میں مایوسی پیدا کر سکتی ہے اور ایسے عناصر کو جگہ دے سکتی ہے جو ‘بنگلہ دیش کے بانی اصولوں کے مطابق نہیں’ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عبوری حکومت بیوروکریسی کے دباؤ کے آگے جھک گئی، اصلاحاتی اہداف حاصل نہ ہو سکے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش

حکومت نے ابھی تک ٹی آئی بی کے بیان پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ٹرانسپورٹ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل طارق رحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرانسپورٹ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ٹی آئی بی نے بنگلہ دیش کہا کہ

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے