صدر ٹرمپ نے اختیارات سے تجاوز کیا؛ عالمی ٹیرف کالعدم؛ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ سنا دیا جن نے عالمی سطح پر کھلبلی مچادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالتِ عظمیٰ نے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال سے نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیرف قانونی بنیادوں پر درست نہیں تھے اور صدر نے انہیں نافذ کرتے وقت اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرنے کے لیے جس اکانومی ایمرجنسی کا سہارا لیا وہ بالکل غلط اور بے بنیاد توجیہہ پر تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ قانون صرف قومی ہنگامی حالات میں مخصوص معاشی اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور اس کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد نہیں کیے جا سکتے۔
امریکی عدالت نے واضح کیا کہ ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس ہے جسے صدر ٹرمپ تن تنہا استعمال نہیں کرسکتے۔
اس فیصلے کے حق میں 6 ججز جب کہ 3 نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اکثریتی فیصلے سے عدم اتفاق کیا۔
خیال رہے کہ فیصلے سے ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے ٹیرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ ٹیرف نہ ہوتے تو سب کچھ دیوالیہ ہو جاتا۔
صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے طویل انتظار پر اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بطور صدر ان کا یہ حق ہے کہ وہ ٹیرف مقرر کریں۔
تاہم عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ فیصلے کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔