سماجی انصاف معاشی انصاف کے بغیر ممکن نہیں، علامہ ساجد علی نقوی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اپنے پیغام میں ایس یو سی سربراہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو اپنی مؤثر رٹ بحال کرنے کے لیے معاشی انصاف کے حوالے سے ٹھوس میکنزم متعارف کرانا ہوگا اور طاقتور ریاستوں کے مذموم عزائم کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے انسانی بقا اور مساوات پر یقین رکھنے والی قوتوں کو متحرک کرنا ہوگا، اسی صورت میں دنیا میں حقیقی سماجی مساوات اور انصاف کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ سماجی انصاف اسی وقت ممکن ہے جب معاشی انصاف کو یقینی بنایا جائے، جبکہ موجودہ عالمی اقتصادی و سیاسی نظام انتہائی ظالمانہ شکل اختیار کرچکا ہے۔ عالمی یومِ سماجی انصاف اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی میٹنگ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 2009ء میں متعارف کرایا گیا ’’سوشل پروٹیکشن فلور انیشیٹو‘‘ بنیادی سماجی ضمانتوں، مساوات، تنوع کے احترام، سماجی تحفظ تک رسائی اور انسانی حقوق کے اطلاق جیسے اصولوں پر مبنی تھا، تاہم ایک دہائی کے دوران عالمی سامراج اور ظالمانہ اقتصادی و سیاسی نظام نے ان اہداف کو متاثر کیا۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ دنیا میں جاری تنازعات اور بحرانوں کی بدترین مثال غزہ، مغربی کنارہ، خان یونس، مقبوضہ بیت المقدس، لبنان اور شام سمیت عراق، افغانستان، روہنگیا اور سوڈان جیسے مسائل ہیں، جہاں بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں سماجی انصاف کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کو محفوظ زندگی، صحت، تعلیم، بہتر روزگار، ثقافتی و مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہو، لیکن موجودہ عالمی ماحول میں یہ حقوق شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سماجی انصاف
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔