عالمی دن برائے سماجی انصاف کے موقع پر، بھارت میں اقلیتیں اب بھی مودی حکومت کے تحت نظامی محرومی کا شکار ہیں اور ہر سطح پر انصاف سے محروم رہتی ہیں۔

کشمیری میڈیا سروس کے مطابق سماجی انصاف کا بنیادی اصول مساوات ہے، مگر مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے ساتھ بھارت میں بڑھتا ہوا امتیاز دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں پابندسلاسل شیخ عبدالرشید کی جیت مودی سرکار کے منہ پر طمانچہ

عالمی سماجی انصاف کا دن بھارت میں اقلیتوں کے لیے خالی پن کا پیغام دیتا ہے، کیونکہ وہاں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی بھی ان سے منسوب نہیں ہے۔

مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہندو انتہاپسندوں کی نفرت انگیز تقریریں اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے اور مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت معاشرے کو مسلح کرنے کی کوششیں بین الاقوامی برادری کے لیے سنگین انسانی حقوق کے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم خاتون کا نقاب کھینچنا، مودی سرکار کے ایجنڈے کی عکاسی ہے، علامہ راشد محمود سومرو

اقلیتوں کا تعاقب بھارت کے مبینہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ مسلمانوں، دلتوں، سکھوں اور عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہیں، اور دنیا کو فوری طور پر بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت میں اقلیتیں عالمی دن برائے سماجی انصاف مودی حکومت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت میں اقلیتیں عالمی دن برائے سماجی انصاف مودی حکومت سماجی انصاف بھارت میں کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی