پہلگام (فالس فلیگ) کی آڑ میں قابض مودی حکومت کے مذموم عزائم آشکار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پہلگام(نیوز ڈیسک) پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو فالس فلیگ قرار دیتے ہوئے قابض بھارتی حکومت کے مذموم عزائم ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو دبانے اور غیر قانونی تسلط کو طول دینے کے لیے بطور جواز استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قابض حکومت، جس کی قیادت نریندر مودی کر رہی ہے، نے اس واقعے کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں سیکیورٹی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید 43 نئی چوکیاں قائم کر دی ہیں۔
اخبار کے مطابق ہر نئی چوکی پر اوسطاً 25 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ان میں سے 26 چوکیاں کشمیر ڈویژن اور 17 چوکیاں جموں ڈویژن میں قائم کی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی سینٹرل ریزرو فورس نے ان چوکیوں کے لیے خصوصی ساز و سامان بھی حاصل کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کو محض ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا اصل مقصد کشمیری عوام کی سیاسی آواز اور حقِ خود ارادیت کو دبانا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی میں اس اضافے کے پیچھے اصل ہدف آزادی کی تحریک کو کمزور کرنا اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھنا ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ یہ اقدامات بھارت کی جمہوری ساکھ پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں، کیونکہ کشمیر میں پہلے ہی سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی بڑھانے کا جواز دراصل کشمیری عوام کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا ذریعہ ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔