پہلگام(نیوز ڈیسک) پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو فالس فلیگ قرار دیتے ہوئے قابض بھارتی حکومت کے مذموم عزائم ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو دبانے اور غیر قانونی تسلط کو طول دینے کے لیے بطور جواز استعمال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قابض حکومت، جس کی قیادت نریندر مودی کر رہی ہے، نے اس واقعے کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں سیکیورٹی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید 43 نئی چوکیاں قائم کر دی ہیں۔

اخبار کے مطابق ہر نئی چوکی پر اوسطاً 25 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ان میں سے 26 چوکیاں کشمیر ڈویژن اور 17 چوکیاں جموں ڈویژن میں قائم کی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی سینٹرل ریزرو فورس نے ان چوکیوں کے لیے خصوصی ساز و سامان بھی حاصل کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کو محض ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا اصل مقصد کشمیری عوام کی سیاسی آواز اور حقِ خود ارادیت کو دبانا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی میں اس اضافے کے پیچھے اصل ہدف آزادی کی تحریک کو کمزور کرنا اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھنا ہے۔

ماہرین نے مزید کہا کہ یہ اقدامات بھارت کی جمہوری ساکھ پر بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں، کیونکہ کشمیر میں پہلے ہی سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی بڑھانے کا جواز دراصل کشمیری عوام کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا ذریعہ ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 

پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔

دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے  پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔

بھارتی عوام  کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار  کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا