اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کررہا ہے، پاکستان نےخبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
(انور عباس)پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،اس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔اس کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیدیا۔
پنجاب: لگژری سرکاری گاڑیاں اور لامحدود پیٹرول، افسر شاہی کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری
ترجمان پاکستانی مستقل مشن، نیویارک کے مطابق ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے اقوام متحدہ اسپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کیلئے ناگزیر ذریعہ ہیں، یہ مشنز اس وقت بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں،اس حوالے سے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان گزشتہ 6 دہائیوں سے زائد عرصے سے امن مشنز کے لیے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں,
ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام
ترجمان کے مطابق مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، حالیہ برسوں میں بعض مشنز کی منتقلی یا اختتام عمل میں آیا ہے،لیکن بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح کے تنازعات کے باوجود ایک دہائی سے زائد عرصے سے کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا۔ غیر اقوامِ متحدہ اور عارضی نوعیت کے مشنز کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مشنز کی ضرورت برقرار ہے،اصل مسئلہ مطابقت کا نہیں بلکہ عزم اور اجتماعی سیاسی ارادے کا ہے، اقوامِ متحدہ امن مشنز کی قانونی حیثیت عالمگیر شمولیت، باقاعدہ اور قابلِ پیشگوئی مالی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور احتسابی نظام سے حاصل ہوتی ہے، قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
محکمہ صحت کا اہم فیصلہ، چھٹیوں کے لیے نئے احکامات جاری
پاکستانی مستقل مندوب، اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جا رہی ہے،پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے مالیاتی ڈھانچے کا سنجیدہ اور منظم جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا،تاکہ فنڈنگ کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ بنایا جا سکے، اگر مالی وعدے کمزور پڑتے رہے اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر مشنز محدود ہوتے رہے تو امن مشنز کے لیے دستے فراہم کرنے والے ممالک کی تیاری بھی متاثر ہو سکتی ہے، ان میں اسٹینڈ بائی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیت اور خصوصی یونٹس شامل ہیں۔
رمضان المبارک میں عطر کی مانگ میں نمایاں اضافہ
پاکستانی مستقل مندوب نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے، اس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں، شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام، اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے میٹرک کی عارضی ڈیٹ شیٹ تیار کرلی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افتتاحی اجلاس عاصم افتخار احمد پاکستانی مستقل اقوام متحدہ مشنز کے کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز