شاہد آفریدی کا شاداب خان کو مشورہ: تنقید کا جواب میدان میں اپنی کارکردگی سے دیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی آل راؤنڈر شاداب خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق کرکٹرز پر بیانات دینے کے بجائے اپنی کارکردگی کے ذریعے تنقید کا جواب دیں۔
یہ مشورہ اس وقت سامنے آیا جب شاداب خان نے بھارت سے شکست کے بعد ہونے والی تنقید پر سابق کھلاڑیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہانہوں نے وہ نہیں کیا جو ہم نے کیا، ہم نے ورلڈکپ میں بھارت کو ہرا دیا ہے۔
ایک مقامی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ شاداب اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی کامیابیوں کے دفاع میں حق بجانب ہیں، 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف تاریخی فتح کے بعد ٹیم عزت اور دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام رہی۔
آفریدی نے کہا کہ شاداب بالکل درست کہہ رہا ہے۔ ہم ورلڈکپ میں بھارت کو نہیں ہرا سکے، انہوں نے ہرایا، انہیں عزت ملی لیکن وہ اس عزت کو سنبھال نہ سکے، یہ ناکامی اندرونی مسائل، انفرادی دباؤ اور ٹیم کے اجتماعی معاملات کو درست طریقے سے سنبھال نہ پانے کی وجہ سے ہوئی۔
سابق کپتان نے شاداب کو یاد دلایا کہ جب وہ خراب فارم کی وجہ سے ٹیم سے باہر تھے تو کئی سابق کھلاڑیوں نے ان کی کھل کر حمایت کی اور ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کو اجاگر کیا، شاداب نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے بغیر قومی ٹیم میں جگہ بنائی، اس کے باوجود سابق کھلاڑی آج بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
آفریدی نے شاداب کے اچھے اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ تنقید کا بہترین جواب میدان میں کارکردگی ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی پروفیشنل زندگی میں شدید تنقید اور گالیاں دی گئیں، مگر انہوں نے صبر کیا اور بڑی ٹیموں کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی۔
آخر میں آفریدی نے شاداب کو ہدایت دی، “پرفارم کرو، پھر ان شاء اللہ جواب دو تاکہ ہم بھی خاموش ہو جائیں اور جب ورلڈ کپ ختم ہوگا تو ہم واقعی خاموش ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ کولمبو میں نمیبیا کے خلاف 102 رنز سے کامیابی کے بعد آل راؤنڈر شاداب خان نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سابق کرکٹرز کی اپنی رائے ہے، وہ لیجنڈز رہے ہیں، ورلڈ کپ میں وہ بھی وہ کچھ نہیں کر سکے جو ہم کر چکے ہیں، ہم نے ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرایا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔