مجھےملاقات کا موقع ملتا تو ضرور جاتا، بانی سے نہ ملنے والوں نے درست فیصلہ نہیں کیا، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی پیش کش کی گئی تھی، جو لوگ دباؤ میں آ کر ملاقات کے لیے نہ گئے انہوں نے غلطی کی، اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ضرور جا کر بانی سے ملاقات کرتے اور ان کی صحت کے بارے میں خود تسلی کرتے۔
نجی ٹی وی پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک بہن ہیں اور ان کے سخت الفاظ بھی برداشت کرنے چاہئیں، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو احتیاط سے چلنا ہوگا تاکہ خاندان کی دل آزاری بھی نہ ہو اور رہائی کی کوششیں بھی جاری رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابوں کی فراہمی سمیت تین اہم معاملات پر واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، اس لیے حکومت کو کم از کم ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت ضرور دینی چاہیے، معروف معالج فیصل سلطان کا عمران خان کے ساتھ طویل پیشہ ورانہ تعلق رہا ہے اور ڈاکٹر کا کردار سیاسی نہیں ہوتا۔
علی محمد خان نے مزید کہا کہ اگر کوئی رہنما دباؤ کی وجہ سے ملاقات کے لیے نہ گیا تو یہ سیاسی طور پر درست فیصلہ نہیں تھا،اگر وہ خود اس صورتحال میں ہوتے تو وہ بانی سے مل کر ان کی خیریت دریافت کرتے اور قوم کو ان کی صحت کے بارے میں آگاہ کرتے۔
پارٹی کے اندر جاری حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے فورس بنانے کی تجویز نیک نیتی پر مبنی تھی، تاہم انہوں نے پارلیمنٹ میں مشورہ دیا کہ لفظ فورس کے بجائے رضاکار استعمال کیا جائے تاکہ کسی کو تنقید کا موقع نہ ملے،سیاسی جدوجہد پرامن ہونی چاہیے اور مقصد پر توجہ رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو اتحاد، برداشت اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں اور قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کا ازالہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی محمد خان سے ملاقات انہوں نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔