رشوت خور ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) نیو اسلام آباد ائرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن عملے کی مبینہ ملی بھگت سے تارکین وطن کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بیرون ممالک و یورپ بیجھوانے کے لیے سہولت کاری و انسانی اسمگلنگ کے میگا اسکینڈل کا انکشاف ہوا۔4 مسافروں سے رشوت کے عوض امیگریشن کلئیر کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے امیگریشن کے افسر محمد عالم ،ایف سی انضمام الحق اور زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے رشوت ستانی و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔حکام کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ڈائریکٹر ایف ایک اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے نیو اسلام آباد ائرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کے غیر قانونی سرگرمیوں و انسانی اسمگلروں سے روابط کی اطلاع ملی۔ جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نے خود نگرانی کرتے ہوئے تحقیقات شروع کیں توالزامات سچ نکلنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایف ا ئی اے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔