جو چاہوں کرسکتا ہوں، ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے جانے پر ٹرمپ کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اپنے ردعمل میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے، مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں، مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا۔ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا۔ امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے، وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ امریکی عدالت کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے، مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں، مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔ امریکی صدر نے کہا کہ عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرف کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔
صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل رقم واپس کرنا ہوگی۔؟ جس پر جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹیرف سے حاصل رقم واپسی پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرار ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا، ہہتر ہوگا کہ ایران مناسب ڈیل کیلئے مذاکرات کرے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے تو اثرات سنگین ہوں گے۔ امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہوگا۔ ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے امریکی عدالت اضافی ٹیرف سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرمپ کا کا کہنا ٹیرف سے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن