data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلاآباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اے این ایف نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں طلبہ کو کوکین اور آئس فراہم کرنے والے نائجیرین منشیات نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ترجمان کے مطابق نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والی منشیات اسمگلنگ تنظیموں کے خاتمے کے لیے قومی اور عسکری قیادت کی ہدایات کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس، پاکستان میں سرگرم غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے منشیات نیٹ ورکس کے خلاف اپنی فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اے این ایف نے 2026ء میں ایک بار پھر ایک نائجیرین کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیم کو ختم کیا ہے جو کہ تعلیمی اداروں میں کوکین اور میتھ ایمفیٹامین (آئس) پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔مستند انٹیلی جنس پر کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف نے ایک اہم ڈسٹری بیوٹر چارلس چوکا (نائجیرین باشندے) کی نشاندہی کی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی میں طلبہ کو منشیات فراہم کر رہا تھا۔ مسلسل نگرانی کے بعد اسے اسلام آباد کی ایک نجی سوسائٹی سے گرفتار کیا گیا، جہاں سے 10 گرام کوکین بھی برآمد ہوئی۔بعد ازاں تحقیقات کے نتیجے میں نیٹ ورک کے سرغنہ جوزف چینیدو (نائجیرین شہری) کی بحریہ ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر فالو اپ چھاپا مارا گیا، جہاں سے 26 کوکین کیپسول (600 گرام)، 90 کوکین ٹوکن (90 گرام) اور 160 گرام میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی، یوں کوکین کی مجموعی برآمدگی 860 گرام رہی۔تنظیم کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی ضبط کر لی گئی۔گرفتار ملزمان، برآمد شدہ منشیات اور گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ نیٹ ورک کے باقی ارکان کی گرفتاری کے لیے مزید کوششیں جاری ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیٹ ورک

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا