ٹینشن، گالم گلوچ کا ماحول ختم کرکے تمام سیاسی رہنما ڈائیلاگ کی طرف آئیں،نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کا حق ہے کہ ذاتی معالج تک رسائی دی جائے، ملک میں ٹینشن، گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔ یہ بات نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر قوم پریشانی کا شکار ہے، آپ عمران خان کے معالج کو ان تک رسائی دیں وہ جیل سے بتا دیں ان کے ساتھ کس کو ہونا ہے، یہ حق ہے ان کا انہیں ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی حاصل ہو، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کس کو ہونا چاہیے کس کو نہیں، یہ فیصلے کا بھی عمران خان کو کرنے دیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کا سیاسی درجہ حرارت نارمل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پوری کوشش کی مگر انقلاب نہ آسکا، پاکستان کی معیشت کے جو حالات ہیں اس کے سبب 125 عالمی کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں‘ آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عوام کی کمر ٹوٹ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، حکومت اور عوام کے درمیان اس وقت بہت زیادہ فاصلہ ہے ملک میں کوئی مثبت سیاسی ڈیولپمنٹ نہیں ہو رہی‘ اس وقت سیاست کو کسی بڑی تحریک کی ضرورت نہیں‘ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک ساتھ مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ صدر مملکت نے ایک نازیبا بیان دیا، اپنے بیان میں انہوں نے خواتین کو حقیر گردانا، یہ ناپسندیدہ بیان تھا، صدر مملکت کو لوگوں کو جوڑنا چاہیے، صدر مملکت کو اپنا بیان واپس لینا چاہیے،زرداری عمران خان کے خلاف غیر ضروری بیان بازی کر رہے ہیں، اس وقت واحد حل قومی حکومت کا قیام ہے۔بیرسٹر محمد سیف نے کہا کہ ملک میں سیاسی صورتحال میں مفاہمت کی ضرورت ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کی سیاست میں مثبت کردار ادا کررہی ہے، ملک کے آدھے سے زیادہ حصے کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستان میں اس وقت ایک متحد قوم کی ضرورت ہے، ملک میں ٹینشن گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی ضرورت رہنماو ں ملک میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔